سائنسی تحقیق کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے؛ محققین نے پہلی بار پھل مکھی کے مکمل دماغ کا نقشہ تیار کر لیا ہے۔ یہ محض ایک کیڑے کا مطالعہ نہیں، بلکہ اعصابی نظام کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا ایک ایسا بلیو پرنٹ ہے جو انسانی دماغ کے کام کرنے کے انداز پر گہری روشنی ڈالتا ہے۔
اگرچہ پھل مکھی کا دماغ انسانی دماغ کے مقابلے میں انتہائی چھوٹا ہے، لیکن اس کے نیورانز اور ان کے درمیان رابطوں کا ڈھانچہ ارتقائی اعتبار سے انسانی دماغ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس نقشے میں تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار نیورانز اور پانچ کروڑ کے قریب روابط کی تفصیل موجود ہے۔ یہ نقشہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ایک جاندار بیرونی محرکات کو کیسے پروسیس کرتا ہے اور پھر کوئی فیصلہ کیسے لیتا ہے۔
اس تحقیق کا ہم سے کیا تعلق ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں بنیادی "سرکٹ” کو جاننا ہوگا۔ جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک مکھی بھوک یا خطرے کے وقت اپنے اعصاب کو کیسے استعمال کرتی ہے، تو ہم انسانی رویوں میں موجود ان بنیادی جبلتوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو ہمارے روزمرہ فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
ایک اہم نیورو سائنسدان نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم ادراک کی بنیادی اکائیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ اگر ہم یہ جان لیں کہ ایک مکھی اپنے دماغ میں متضاد خواہشات کے درمیان فیصلہ کیسے کرتی ہے، تو ہم اپنے انسانی رویوں کی حیاتیاتی حدود کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے۔”
اس تحقیق کے طبی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ آٹزم، شیزوفرینیا اور ڈپریشن جیسے ذہنی امراض کو اب "سرکٹ کی خرابی” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب جب کہ ہمارے پاس ایک مکمل دماغی نقشہ موجود ہے، سائنسدان کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے یہ جان سکیں گے کہ مخصوص جینیاتی تبدیلیاں اعصابی راستوں کو کیسے متاثر کرتی ہیں۔ یہ وہ درستگی ہے جو ماضی میں ناممکن سمجھی جاتی تھی۔
یہ نقشہ تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ محققین نے مکھی کے دماغ کو ہزاروں باریک تہوں میں کاٹا، الیکٹران مائیکروسکوپ سے ان کی تصاویر لیں اور پھر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ان تمام ٹکڑوں کو جوڑا۔ برسوں کی اس محنت کا نتیجہ ایک ایسا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس ہے جو دنیا بھر کے لیبز کے لیے تحقیق کے نئے دروازے کھولتا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا استدلال ہے کہ مکھی کا رویہ محض جبلت پر مبنی ہے، جبکہ انسانی شعور اور زبان کا استعمال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ تاہم، اس تحقیق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آپ عمارت کی بنیاد سمجھے بغیر اس کی بلندی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔
یہ تحقیق ابھی صرف ایک آغاز ہے۔ جیسے جیسے ہم پیچیدہ جانداروں کے اعصابی نظام کو سمجھیں گے، انسانی رویوں اور حیوانی جبلت کے درمیان کا فرق واضح ہوتا جائے گا۔ اب سوال یہ نہیں کہ مکھی کا دماغ ہمارے جیسا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے نقشے سے اپنے دماغ کے ان رازوں کو کیسے حل کریں گے جو اب تک سربستہ تھے۔
