سنگاپور — جنوب مشرقی ایشیا کے وسیع تر خطے میں زہریلے دھوئیں کی موٹی تہہ نے ڈیرے ڈال دیے ہیں، جس کے باعث تعلیمی ادارے بند اور صحت عامہ کے حوالے سے ہنگامی الرٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ شدت اختیار کرتا ہوا ’سپر‘ ایل نینو کا اثر ہے۔
انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کے کئی حصوں میں ہوا کا معیار ’غیر صحت بخش‘ سطح تک گر چکا ہے۔ اس دھوئیں کی اصل وجہ کلیمانتان اور سماٹرا کے جنگلات اور پیٹ لینڈ میں لگی ہزاروں ہیکٹر پر پھیلی آگ ہے۔ پام آئل اور کاغذ کی صنعت کے لیے زمین صاف کرنے کی غرض سے لگائی گئی یہ آگ اب بے قابو ہو چکی ہے، کیونکہ ایل نینو کے باعث جنگل کی زمین مکمل طور پر خشک ہو کر بارود کا ڈھیر بن چکی ہے۔
یہ موسمیاتی رجحان خطے کو بارشوں سے محروم کر رہا ہے۔ مانسون کی نمی کے بغیر پیٹ لینڈ کی یہ آگ — جو ہفتوں تک زمین کے اندر سلگتی رہتی ہے — بجھانا ناممکن ہو چکا ہے۔
کوالالمپور اور پونٹیانک میں حکام نے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی تاکید کی ہے۔ ہسپتالوں میں سانس کی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں بچے اور معمر افراد سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
جکارتہ میں تعینات ایک موسمیاتی تجزیہ کار نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم 2015 کی تباہی کو دہراتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار ایل نینو زیادہ طاقتور ہے اور جنگلات کے انتظام کا نظام آگ کے ابتدائی مراکز کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔”
حکومتیں صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں۔ انڈونیشیا نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پانی چھڑکنے کا عمل شروع کیا ہے، لیکن حکام تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ خشک موسم میں روایتی طریقے کارگر ثابت نہیں ہو رہے۔ اس دوران، علاقائی سفارتی کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔ سنگاپور اور ملائیشیا کے حکام بارہا جکارتہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ زمین صاف کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے، کیونکہ سرحد پار آنے والا یہ دھواں بین الاقوامی سفارتی تعلقات کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔
صحت کے بحران کے ساتھ ساتھ معاشی نقصانات بھی بڑھ رہے ہیں۔ طبی سہولیات پر بوجھ کے علاوہ، دھوئیں کے باعث سیاحت اور سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
آئندہ دو ماہ تک ایل نینو کے عروج پر رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ جب تک موسمی بارشیں نہیں ہوتیں، یہ خطہ دھوئیں، شدید گرمی اور سیاسی الزامات کے گرداب میں پھنسا رہے گا۔
