وزارتِ مذہبی امور نے 2025 کے لیے نجی حج اسکیم کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس بار حکومت نے نجی ٹور آپریٹرز کے لیے ضوابط سخت کر دیے ہیں تاکہ عازمینِ حج کو گزشتہ برسوں میں درپیش مشکلات سے بچایا جا سکے۔
اب نجی کمپنیاں حج کوٹے کا بڑا حصہ سنبھالیں گی، لیکن حکومت نے سابقہ "آزادانہ” پالیسی کو ختم کر دیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق، کوئی بھی ٹور آپریٹر وزارت کے ساتھ باضابطہ معاہدے کے بغیر مارکیٹ میں پیکیج فروخت نہیں کر سکے گا۔
یہ فیصلہ ان شکایات کے بعد کیا گیا جن میں عازمین نے مکہ اور مدینہ میں ناقص رہائش، سفری سہولیات کی کمی اور آخری لمحات میں اخراجات بڑھانے کی شکایت کی تھی۔
وزارت کے ترجمان نے اس حوالے سے واضح کیا کہ "ہم خدمات میں کوتاہی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رہے ہیں۔ جو آپریٹرز وعدے کے مطابق سہولیات فراہم نہیں کریں گے، انہیں فوری طور پر بلیک لسٹ کیا جائے گا اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔”
قیمتوں میں من مانی روکنے کے لیے حکومت نے نجی آپریٹرز کو پابند کیا ہے کہ وہ بکنگ کے وقت ہی اخراجات کی مکمل تفصیل — بشمول ہوائی ٹکٹ، رہائش اور ٹرانسپورٹ — ظاہر کریں۔ معاہدہ طے پانے کے بعد کسی بھی قسم کی اضافی "سروس فیس” وصول کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
اگرچہ نجی پیکیجز سرکاری حج اسکیم کے مقابلے میں مہنگے ہیں، تاہم حکومت نے آپریٹرز کے منافع کی حد مقرر کر دی ہے تاکہ بازار میں قیمتوں کا غیر ضروری اتار چڑھاؤ نہ ہو۔
اب تمام عازمین کو ایک مرکزی ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کروانا ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ وزارت ہر معاہدے کی حقیقی وقت میں نگرانی کر سکے۔ اگر کوئی آپریٹر معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا، تو حکومت کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ کمپنی کے پرفارمنس بانڈ سے کٹوتی کر کے عازمین کو رقم واپس کروائے۔
سرکاری حج اسکیم اب بھی سب سے سستا راستہ ہے، لیکن نجی شعبے کی نئی پالیسی ایک زیادہ منظم اور شفاف مارکیٹ کی جانب قدم ہے۔ وزارت فی الحال اس عمل کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور آپریٹرز کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس سال کے آڈٹ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہوں گے۔
