واشنگٹن، 5 ستمبر 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر رواں ہفتے کے اختتام پر ماسکو اور کیف کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بحال کرنے کی ایک نئی امریکی کوشش کے تحت اہم ملاقاتیں کریں گے۔
یہ سفارتی مشن ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کے لیے امریکی ثالثی کی کوششیں کئی ماہ سے نمایاں پیش رفت حاصل نہیں کرسکی ہیں۔
پیوٹن اور زیلنسکی سے ملاقاتیں
رپورٹس کے مطابق وٹکوف اور کشنر ہفتہ 5 ستمبر کو ماسکو پہنچیں گے، جہاں کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔ اس کے بعد وہ اتوار کو کیف جائیں گے جہاں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے مذاکرات کریں گے۔
کیف کا دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر بننے کے بعد یہ وٹکوف اور کشنر کا یوکرین کا پہلا دورہ ہوگا۔ دونوں ایلچی اس سے قبل جنوری میں ماسکو میں پیوٹن سے ملاقات کرچکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ایلچی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی تجویز لے کر جارہے ہیں، تاہم انتظامیہ نے اس منصوبے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔ ٹرمپ نے مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات پر امید کا اظہار کیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات
یہ دورے ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان حملے بدستور جاری ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکی حکام دونوں فریقوں سے سیکیورٹی کی یقین دہانیاں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے یوکرین سے ایلچیوں کے ماسکو میں قیام کے دوران روسی دارالحکومت پر حملے روکنے جبکہ روس سے کیف پر حملے نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
سیکیورٹی خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب جمعہ 4 ستمبر کو روسی ڈرون حملے نے کیف میں یوکرین کی ایس بی یو سیکیورٹی سروس کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔ حملے میں عمارت کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
روس اور یوکرین کے درمیان اختلافات برقرار
نئی سفارتی کوشش کے باوجود روس اور یوکرین ممکنہ امن معاہدے کی شرائط پر اب بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔
کریملن کا مؤقف برقرار ہے کہ یوکرین روس کے دعویٰ کردہ علاقوں سے دستبردار ہو اور نیٹو میں شمولیت کی خواہش ترک کرے۔ یوکرین ان مطالبات کو مسترد کرتا ہے اور اسے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف سمجھتا ہے۔
روسی صدر پیوٹن نے حال ہی میں امن معاہدے تک پہنچنے کے امکان کا اظہار کیا ہے، تاہم یوکرینی حکام روس کے ارادوں کے بارے میں اب بھی شدید شکوک رکھتے ہیں۔
امن کے لیے نئی کوشش
روس اور یوکرین کے درمیان آخری امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے باعث سفارتی کوششیں بڑی حد تک رک گئی تھیں۔ اس لیے ماسکو اور کیف کا مجوزہ دورہ کئی ماہ بعد امن عمل کو دوبارہ متحرک کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
امریکا کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ آیا روس مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے اپنے مطالبات میں لچک دکھانے پر تیار ہے یا نہیں، جبکہ ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ امن منصوبے کے لیے یوکرین کی رضامندی بھی حاصل کرنا ہوگی۔
وٹکوف اور کشنر کی ملاقاتوں کے نتائج یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کہ آیا امریکی امن کوشش باقاعدہ اور بامعنی مذاکرات میں تبدیل ہوتی ہے یا ماسکو اور کیف کے درمیان موجود گہرے اختلافات جنگ کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بنے رہتے ہیں۔
