کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں شہر کی سڑکوں پر الیکٹرک بائیک چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں میئر نے نہ تو ہیلمٹ پہن رکھا ہے اور نہ ہی ان کی بائیک پر کوئی نمبر پلیٹ موجود ہے۔
سندھ کے ٹریفک قوانین کے مطابق موٹر سائیکل یا کسی بھی موٹرائزڈ دو پہیہ سواری کے لیے ہیلمٹ کا استعمال لازمی ہے۔ موٹر وہیکلز آرڈیننس کے تحت خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور بائیک ضبط بھی کی جا سکتی ہے۔ میئر کا یہ عمل شہریوں اور ٹریفک قوانین کے ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے، کیونکہ شہر کے نظم و نسق کا ذمہ دار شخص خود قانون کی پاسداری میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
ایک مقامی سماجی کارکن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ عام شہری کے لیے بنائے گئے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر میئر خود ہیلمٹ نہیں پہنیں گے تو ٹریفک پولیس کسی عام طالب علم یا ڈیلیوری رائیڈر کا چالان کرنے کا اخلاقی جواز کیسے پیش کرے گی؟”
بغیر نمبر پلیٹ والی الیکٹرک بائیک کا معاملہ بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ اگرچہ سندھ حکومت سموگ پر قابو پانے کے لیے گرین انرجی اور الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، لیکن ان کی رجسٹریشن اور ٹریفک قوانین کے اطلاق کا دائرہ کار تاحال ایک مبہم صورتحال میں ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی سرکاری عہدیدار کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ تاہم، یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) شہر میں نظم و ضبط بحال کرنے اور تجاوزات کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔
میئر ہاؤس کی جانب سے اس وائرل ویڈیو پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ کیا میئر خود اپنے اس عمل پر جرمانہ ادا کریں گے۔
یہ ویڈیو شہر کی قیادت کے قول و فعل کے تضاد کو اجاگر کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ٹریفک پولیس، جو شہر کے ہر اہم چوک پر شہریوں کے لیے سخت گیر رویہ رکھتی ہے، میئر کا چالان کرے گی یا یہ معاملہ بھی دیگر سیاسی واقعات کی طرح خاموشی کی نذر ہو جائے گا۔
