انڈونیشیا کے دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گرنے سے لاکھوں مچھلیاں ہلاک ہو کر کناروں پر آ گئی ہیں، جس سے مقامی آبادی کے لیے خوراک اور روزگار کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔ شدید گرمی اور ‘ال نینو’ کے اثرات نے دریائی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
ریاؤ صوبے کے دریائے اندراگیری کے کنارے اب بدبو اور سڑتی ہوئی مچھلیوں کا ڈھیر ہیں۔ کبھی لہروں سے بھرپور رہنے والا یہ دریا اب صرف کیچڑ اور چھوٹے تالابوں میں سمٹ چکا ہے۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پانی میں آکسیجن ختم ہونے سے مچھلیوں کا سانس لینا محال ہو گیا ہے، اور جو بچ گئی ہیں وہ بھی شدید گرمی کی تاب نہیں لا پا رہیں۔
مقامی ماہی گیر احمد، جو برسوں سے اسی دریا پر انحصار کر رہے ہیں، نے بتایا: "میں نے اپنی پوری زندگی میں دریا کو اتنا خشک کبھی نہیں دیکھا۔ یہ ہمارا ذریعہ معاش تھا، اب یہاں صرف موت اور بدبو باقی ہے۔”
محکمہ موسمیات کے مطابق، خطے میں بارشوں کا تناسب رواں موسم میں 60 فیصد تک کم رہا ہے۔ پانی کا بہاؤ رکنے سے دریا کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، جس نے آبی حیات کے لیے اسے ایک قبرستان میں بدل دیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات خبردار کر رہے ہیں کہ یہ صرف مچھلیوں کا نقصان نہیں، بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کی تباہی ہے جس کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
حکومت نے متاثرہ علاقوں میں پانی کے ٹینکرز بھجوانا شروع کر دیے ہیں، لیکن دیہات کے مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ عارضی اقدامات کافی نہیں ہیں۔ نقل و حمل کے ذرائع بند ہونے سے دیہاتوں تک رسد پہنچانا مشکل ہو گیا ہے، جس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔
موسمیاتی پیش گوئیوں کے مطابق خشک سالی کا یہ سلسلہ مزید کئی ہفتے جاری رہ سکتا ہے۔ دریاؤں کی تہہ میں پڑنے والی دراڑیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ آنے والے دن انڈونیشیا کے ان دیہی علاقوں کے لیے مزید مشکلات لے کر آئیں گے۔ مقامی لوگوں کی نظریں اب آسمان پر ہیں، لیکن بادلوں کا کوئی نام و نشان نہیں۔
