سندھ حکومت نے 31 جولائی سے شروع ہونے والے مون سون کے نئے سلسلے کے پیشِ نظر صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو نکاسی آب کے نظام کو صاف کرنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو مشینری کو کلیدی مقامات پر تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، بارش کا یہ سسٹم پہلے ساحلی پٹی سے ٹکرائے گا۔ کراچی، حیدرآباد اور ٹھٹھہ کو شدید بارشوں کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس سسٹم کی شدت نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا باعث بن سکتی ہے اور شہروں کا بوسیدہ سیوریج سسٹم اس دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ "ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے رہے۔ ہماری توجہ نقصان کو روکنے پر ہے۔ ہم نے کراچی اور اندرونِ سندھ کے حساس مقامات پر بھاری مشینری پہنچا دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔”
صوبائی حکومت نے تمام میونسپل کمشنرز کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ کراچی میں خاص طور پر کورنگی کاز وے اور بڑے نالوں پر توجہ مرکوز رکھی جا رہی ہے جو ماضی میں شدید بارشوں کے دوران رکاوٹوں کا شکار رہے ہیں۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ نکاسی آب کے ناقص نظام اور کچرے کی بھرمار کے باعث ہلکی بارش بھی شہر کو مفلوج کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
زراعت کے ماہرین بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ بارشیں خریف کی فصل کے لیے ضروری ہیں، لیکن بالائی سندھ کے کپاس کے علاقوں میں پانی کا زیادہ جمع ہونا فصل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی فصلوں کو پانی میں ڈوبنے سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
انتظامی دعووں کے باوجود شہریوں میں خدشات برقرار ہیں۔ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سیلابی صورتحال کے بعد نکاسی آب کے نیٹ ورک کی مرمت میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ فی الحال انتظامیہ کا سارا دارومدار بروقت متحرک ہونے اور ہائی الرٹ کی حکمت عملی پر ہے تاکہ متوقع بارشوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
یہ سسٹم 3 اگست تک جاری رہے گا، جبکہ بارش کی شدت جمعرات اور جمعہ کو عروج پر ہوگی۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ طوفان کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنے ہنگامی کٹس تیار رکھیں۔
