لاہور — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ایک اہلکار نے منگل کے روز سیشن کورٹ کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صوبائی اسمبلی کے رکن (ایم پی اے) ثاقب چدھڑ تفتیش کے بعد معروف اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے قصوروار پائے گئے ہیں۔ یہ انکشاف ایجنسی لاہور کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) نجم باجوہ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصرت علی صدیقی کے سامنے دورانِ سماعت کیا۔ عدالت اداکارہ مومنہ اقبال کے الزامات پر درج مقدمے میں نامزد ایم پی اے اور ان کی اہلیہ کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر 2026 تک توسیع کرتے ہوئے اگلی پیشی پر فریقین کو حتمی دلائل پیش کرنے کا حکم دیا۔
اس ہائی پروفائل کیس کا آغاز مئی میں اس وقت ہوا جب اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی ایک اپیل وائرل ہوئی، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے نوٹس لیا۔ اداکارہ نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ نون لیگ کے ایم پی اے نے شادی کی پیشکش مسترد کرنے پر (یہ معلوم ہونے کے بعد کہ وہ پہلے سے دو خواتین کے شوہر ہیں) انہیں اور ان کے منگیتر کو فون کالز اور واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے بلیک میل کیا، ہراساں کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ اداکارہ کی شکایت پر وفاقی ادارے نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس میں اب تفتیشی ادارے نے عدالت کو ملزم کے قصوروار ہونے سے آگاہ کر دیا ہے۔
