وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاک-امریکہ تجارتی تعلقات میں بڑی توسیع کی امید ظاہر کرتے ہوئے ہدف مقرر کیا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔
ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈار نے اس ہدف کو محض سفارتی خواہش کے بجائے ایک قابلِ عمل سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی، زراعت اور ٹیکسٹائل برآمدات کو اس ترقی کا بنیادی انجن قرار دیا، جن کی صلاحیت تاحال پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی۔
موجودہ تجارتی حجم تقریباً 10 ارب ڈالر کے قریب ہے، جو پاکستان کے توازن ادائیگی کے بحرانوں اور عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ اس حجم کو پانچ سال میں دگنا کرنا محض سیاسی خیرسگالی سے ممکن نہیں؛ اس کے لیے ان ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے جن پر آئی ایم ایف برسوں سے زور دے رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ امریکہ پہلے ہی پاکستان کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی انفرادی منڈی ہے، لیکن یہ تعلقات اکثر غیر متوازن رہتے ہیں۔ واشنگٹن کی تجارتی پالیسی کا انحصار اکثر وسیع تر جغرافیائی سیاسی معاملات اور سیکیورٹی تعاون پر ہوتا ہے—ایسے عوامل جو شاذ و نادر ہی ایک سیدھی اور پیش قیاسی لائن پر چلتے ہیں۔
اسحاق ڈار کا اعتماد ‘خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل’ پر منحصر ہے، جو ایک سول-ملٹری ہائبرڈ باڈی ہے اور اس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ بیوروکریسی کے پیچیدہ عمل کو ختم کر کے پاکستان کو امریکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
یہ خوش فہمی حقیقت کا روپ دھارے گی یا نہیں، اس کا انحصار دو بنیادی عوامل پر ہے: پاکستان کی اپنی غیر مستحکم کرنسی کو سنبھالنے کی صلاحیت، اور امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کے ہائی رسک کریڈٹ ریٹنگ کے باوجود سرمایہ کاری کرنے کی آمادگی۔
فی الحال اعداد و شمار میز پر موجود ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مارکیٹ اس ہدف کو کس حد تک قبول کرتی ہے۔
