ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف 33 فیصد تک گر گیا ہے۔ وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز میں بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی اور مہنگائی نے سابق صدر کی سیاسی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تازہ ترین قومی سروے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی حمایت اب اپنی نچلی ترین سطح پر ہے، جو ان کے حامیوں اور ان مضافاتی ووٹرز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو نمایاں کرتی ہے جن پر ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کا انحصار ہے۔
یہ گراوٹ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے۔ ریپبلکن امیدواروں کے لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ معیشت اب انتخابی نعروں سے نکل کر ووٹر کے گھر کے بجٹ کا مسئلہ بن چکی ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور شرح سود نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ووٹرز اب سابقہ انتظامیہ کی پالیسیوں اور موجودہ پارٹی کے بیانیے کو اپنی مالی مشکلات کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار سارہ جینکنز کہتی ہیں، "عوام اب شور و غل سے تھک چکے ہیں۔ انہیں انتخابی جلسوں سے دلچسپی نہیں، وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ گزشتہ چار سالوں کے مقابلے میں ان کے راشن کے بلوں میں 20 فیصد اضافہ کیوں ہوا ہے۔ اس وقت ٹرمپ کے پاس ان سوالات کا کوئی واضح جواب نہیں ہے۔”
سروے کے اعداد و شمار ووٹرز کی وفاداری میں نمایاں دراڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹرمپ اپنے بنیادی ووٹرز میں تو مضبوط ہیں، لیکن غیر جانبدار ووٹرز—جو عام طور پر انتخابی نتائج کا فیصلہ کرتے ہیں—ان سے تیزی سے دور ہو رہے ہیں۔ یہ طبقہ اب جارحانہ سیاسی بیانیے کے بجائے معاشی استحکام کو ترجیح دے رہا ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے اپنے داخلی سروے کا حوالہ دیا ہے، لیکن عوامی سطح پر مقبولیت کا گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ اب نچلی سطح کے امیدواروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ٹرمپ سے فاصلہ بھی رکھیں اور ان کے وفادار ووٹرز کو بھی ناراض نہ ہونے دیں۔
وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور حکمت عملی واضح ہو رہی ہے۔ ڈیموکریٹس معاشی مسائل کو انتخابی ہتھیار بنا رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز گفتگو کا رخ سرحدوں کی سیکیورٹی اور ثقافتی مسائل کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑا سیاسی جوا ہے۔ اگر انتخابی دن تک معاشی حالات میں بہتری نہ آئی تو 33 فیصد کا یہ ہندسہ پارٹی کے لیے مزید مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
