سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے میر رضا گمشدگی کیس کی تحقیقات میں پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او گلستانِ جوہر کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کمیشن نے کھلی سماعت کے دوران پولیس افسر سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ”آپ کا کردار مشکوک ہے اور تحقیقات کا انداز شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔“
کیس کی سماعت کے دوران کمیشن کے اراکین نے پولیس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ میر رضا کی بازیابی کے بجائے پولیس وقت ضائع کر رہی ہے اور ثبوتوں کو محفوظ بنانے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی ہے۔
ورثا کا موقف ہے کہ میر رضا کے لاپتہ ہونے کے بعد سے پولیس انہیں گمراہ کر رہی ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد سے اب تک تفتیشی ٹیمیں دو بار تبدیل کی جا چکی ہیں، جس پر کمیشن نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ تبدیلی کیس کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی کوشش ہے؟
سماعت کے دوران ایس ایچ او نے سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج نہ ملنے اور تکنیکی مشکلات کا عذر پیش کیا، جسے کمیشن نے ”بہانے بازی“ قرار دیا۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ علاقے میں موجود نجی دکانوں اور عمارتوں کے کیمروں تک رسائی پولیس کی ذمہ داری تھی، لیکن وقت پر کارروائی نہ کرنے کے باعث اہم شواہد ضائع ہو گئے۔
میر رضا کے اہل خانہ کے لیے یہ سماعت ایک امید کی کرن ہے، جو گزشتہ کئی ماہ سے تھانے کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس ہر بار نئی تاریخ دے کر انہیں ٹال دیتی ہے، جبکہ اصل ملزمان تک پہنچنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔
کمیشن نے پولیس کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کیس کی مکمل اور تصدیق شدہ فائل پیش کی جائے۔ اگر اس مدت کے اندر ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو کمیشن متعلقہ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کرے گا۔
پولیس اب شدید دباؤ میں ہے۔ کیس کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے اور آنے والے دو دن یہ طے کریں گے کہ آیا پولیس واقعی کسی کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے یا تفتیش میں سنجیدہ ہے۔
