مظفرآباد کی سیاسی فضا میں ہلچل عروج پر ہے۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر طلب کر لیا گیا ہے، جس کا واحد ایجنڈا نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہے۔ یہ نشستیں سابقہ قیادت کے استعفوں کے بعد خالی ہوئی تھیں، اور اب ایوانِ اقتدار میں نئی صف بندیوں کا امتحان ہے۔
حکمران اتحاد کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نے اپنے امیدواروں کے ناموں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے گزشتہ رات تک سر توڑ کوششیں کی ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت اس بار کسی قسم کا رسک لینے کے موڈ میں نہیں ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی دھڑے بندی اور اپوزیشن کی سرگرمیوں نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
اسمبلی کے اسپیکر کا عہدہ محض ایک انتظامی کرسی نہیں، بلکہ ایوان کی کارروائی اور قانون سازی کا کلیدی مرکز ہے۔ خطے میں جاری مالیاتی بحران اور آئینی پیچیدگیوں کے تناظر میں، جو بھی آج اس کرسی پر براجمان ہوگا، اسے اسمبلی کے تقدس اور حکومتی ایجنڈے کے درمیان توازن قائم کرنے کا کٹھن چیلنج درپیش ہوگا۔
انتظامیہ نے اسمبلی ہال اور گردونواح میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، جبکہ مظفرآباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر کڑی نگرانی جاری ہے۔ سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد ایوان کے باہر جمع ہے، جس سے شہر میں کشیدگی محسوس کی جا سکتی ہے۔
انتخاب کا عمل دوپہر دو بجے شروع ہوگا۔ اگرچہ عددی اعتبار سے حکمران اتحاد کو برتری حاصل ہے، لیکن آزاد کشمیر کی سیاست میں "وفاداریوں کی تبدیلی” کوئی نئی بات نہیں۔ خفیہ رائے شماری کا عمل حکومتی صفوں میں موجود بے چینی کو مزید بڑھا رہا ہے۔
اگر حکمران اتحاد اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے میں ناکام رہتا ہے، تو یہ وزیراعظم کے لیے اعتماد کے ووٹ کا ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے۔ آج کا دن فیصلہ کرے گا کہ آیا حکومت اپنی صفیں درست رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا ایوان کے اندر کوئی نیا سیاسی بحران جنم لیتا ہے۔
