پنجاب کے محکمہ صحت نے صوبے بھر کے اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز کو خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں غیر معیاری اور نقلی کریپ بینڈیج کی بھاری مقدار گردش کر رہی ہے۔ یہ پٹیاں، جو بظاہر مستند میڈیکل برانڈز کی پیکنگ میں فروخت کی جا رہی ہیں، زخموں کی دیکھ بھال اور ہڈیوں کے جوڑوں کو سہارا دینے کے لیے انتہائی غیر محفوظ ثابت ہو رہی ہیں۔
محکمہ صحت کے ڈرگ کنٹرول ونگ نے یہ الرٹ سرجنز کی جانب سے ملنے والی شکایات کے بعد جاری کیا۔ طبی ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ یہ پٹیاں استعمال کے چند گھنٹوں بعد ہی اپنی لچک کھو دیتی ہیں اور دھاگے چھوڑنے لگتی ہیں۔ بعض مریضوں میں ان پٹیوں کے استعمال سے جلد پر شدید خارش اور الرجی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ افسر نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم ان کھیپوں کا سراغ لگا رہے ہیں جو کوالٹی کنٹرول کے معیار پر پورا نہیں اتریں۔ یہ صرف غیر موثر نہیں بلکہ ان مریضوں کے لیے خطرہ ہیں جو سرجری کے بعد یا موچ آنے پر ان پر انحصار کرتے ہیں۔”
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نقلی مال غیر قانونی ہول سیل چینلز کے ذریعے مارکیٹ میں پہنچایا جا رہا ہے۔ ان پٹیوں کی قیمت اصل برانڈز سے کافی کم ہے، جس کی وجہ سے اسپتالوں کی خریداری کرنے والے عملے کو بھی دھوکہ دینا آسان ہوتا ہے۔ جعل سازوں نے پیکنگ کو اصلی دکھانے کے لیے جدید پرنٹنگ کا استعمال کیا ہے، جس سے عام آنکھ سے فرق کرنا مشکل ہے۔
محکمہ صحت نے تمام ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کے ذخائر کی انسپکشن کریں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے تصدیقی کوڈز اور مینوفیکچرنگ اسٹیمپ کے بغیر ملنے والی ہر قسم کی اسٹاک کو فوری طور پر ضبط کر کے تلف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
طبی ماہرین نے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پٹی خریدتے وقت پیکنگ کی سیل اور معیار کو ضرور چیک کریں۔ اصلی پٹیاں عام طور پر ویکوم سیل ہوتی ہیں اور ان پر مینوفیکچرر کا نام اور ایکسپائری تاریخ واضح درج ہوتی ہے۔ اگر پیکنگ ہلکی یا پرنٹنگ دھندلی محسوس ہو تو اسے استعمال کرنے سے گریز کریں۔
صوبائی حکومت پر طبی سپلائی چین میں شفافیت لانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ کھیپوں کے فرانزک آڈٹ کے بعد ان ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی جو انسانی صحت سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔
