بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے نہرِ سویز کا محفوظ راستہ چھوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تجارت کی لاگت اور وقت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔
دنیا کی تقریباً 12 فیصد تجارت اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستے سے گزرنا پڑ رہا ہے، جس سے سفر میں دو ہفتے تک کا اضافہ اور ایندھن کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ صرف ایک لاجسٹک مسئلہ نہیں، بلکہ ایک معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
شپنگ انشورنس کی شرحوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ جہاز اب اس خطے سے گزرنے کے لیے اپنی مالیت کا ایک فیصد تک اضافی پریمیم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بوجھ بالآخر عام صارف پر منتقل ہو رہا ہے۔ اشیائے خوردونوش سے لے کر گاڑیوں کے پرزہ جات تک، ہر چیز کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔
یورپ کی بڑی کار ساز کمپنیوں نے پرزوں کی بروقت فراہمی نہ ہونے پر اپنی پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے۔ "جسٹ اِن ٹائم” ماڈل پر چلنے والی عالمی کمپنیاں اب اپنے گوداموں میں سٹاک بڑھانے پر مجبور ہیں، جس سے سرمایہ کاری کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو عالمی منڈیوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
امریکہ کی زیر قیادت قائم اتحاد ‘آپریشن پراسپیریٹی گارڈین’ کے باوجود، حوثیوں کے حملے نہیں رکے۔ ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے کیے جانے والے ان حملوں نے عسکری طاقتوں کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ فضائی حملے کیے جا رہے ہیں، لیکن تجارتی جہازوں کی بحفاظت آمدورفت اب بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
یہ بحران اب عارضی نہیں رہا۔ جب تک بحیرہ احمر میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، عالمی منڈیوں میں مہنگائی کی لہر جاری رہے گی۔ جہاز رانی کی صنعت کے لیے اب واحد راستہ طویل اور مہنگا سفر ہی ہے، کیونکہ سمندر کا مختصر ترین راستہ اب جنگ کا میدان بن چکا ہے۔
