ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی آئرلینڈ کے مستقبل کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئرلینڈ کا اتحاد ایک "شاندار” پیش رفت ہوگی۔ ٹرمپ کے یہ ریمارکس کئی دہائیوں پر محیط اس امریکی سفارتی روایت کے منافی ہیں جس میں واشنگٹن نے ہمیشہ اس خطے کی آئینی حیثیت پر غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی ہے۔
کئی دہائیوں تک امریکی صدور — خواہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ — نے ‘گڈ فرائیڈے معاہدے’ کے ضامن کے طور پر محتاط کردار ادا کیا۔ ان کا مقصد خطے میں استحکام برقرار رکھنا تھا، اس لیے انہوں نے کبھی ایسی حمایت کا اظہار نہیں کیا جس سے یونینسٹ (برطانیہ کے ساتھ رہنے کے خواہشمند) ناراض ہوں یا قوم پرستوں کی تحریک کو اشتعال ملے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے اس روایتی حکمت عملی کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔
بیلفاسٹ میں ٹرمپ کے بیان پر ردعمل فوری سامنے آیا۔ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے اسے ایک خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ یونینسٹوں کا ماننا ہے کہ امریکہ کا کردار ایک ثالث کا ہے، نہ کہ کسی ایک فریق کا حامی بننے کا۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کے الفاظ اس نازک توازن کو بگاڑ سکتے ہیں جس پر شمالی آئرلینڈ کی موجودہ حکومت قائم ہے۔
دوسری جانب، شین فین کے رہنماؤں نے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ وہ برسوں سے واشنگٹن میں لابنگ کر رہے ہیں کہ آئرلینڈ کا اتحاد امن عمل کا منطقی نتیجہ ہے۔ ٹرمپ جیسے بااثر رہنما کی جانب سے اتحاد کو "شاندار” قرار دینا ان کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی سے کم نہیں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بریگزٹ کے بعد تجارت اور سرحدوں کے مسائل پر برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے تعلقات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ ونڈسر فریم ورک کے باوجود کشیدگی برقرار ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کا یہ بیان برطانوی حکام کے لیے ایک نئی سفارتی الجھن پیدا کر سکتا ہے، جو شمالی آئرلینڈ کے مسئلے کو برطانیہ کا داخلی معاملہ سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیان گہری جغرافیائی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ کم اور ٹرمپ کی غیر متوقع انداز میں بات کرنے کی عادت کا زیادہ نتیجہ لگتا ہے۔ تاہم، ڈبلن اور لندن کے مبصرین کے لیے اس بیان کی نیت سے زیادہ اس کے اثرات اہم ہیں۔ امریکہ طویل عرصے سے شمالی آئرلینڈ کے امن عمل کا مرکزی بیرونی معمار رہا ہے، اور جب اس کے سب سے نمایاں سیاسی رہنما کا موقف بدلتا ہے، تو علاقائی طاقت کا توازن بھی ڈگمگا جاتا ہے۔
یہ ایک وقتی بیان ہے یا باقاعدہ پالیسی تبدیلی، اس کا فیصلہ وقت کرے گا، لیکن ٹرمپ نے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جسے سفارتی حلقے طویل عرصے سے دبائے ہوئے تھے۔ لندن میں مقیم ایک پالیسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "امن عمل اس تصور پر کھڑا تھا کہ امریکہ ایک غیر جانبدار ثالث ہوگا۔ جب ثالث خود فریق بن جائے، تو معاہدہ مضبوط نہیں بلکہ مزید کمزور ہو جاتا ہے۔”
