اسلام آباد — حکومت نے یومِ آزادی کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں ‘یادگارِ فتح’ کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ شہر کے مرکزی مقام پر واقع یہ یادگار ان تمام قربانیوں کی علامت ہے جو قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک دی گئیں۔
بدھ کو منعقدہ افتتاحی تقریب میں سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے گزشتہ چند ہفتوں سے کام تیزی سے جاری تھا، تاہم حکومت نے اس کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے تک خفیہ رکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچہ صرف ایک تعمیراتی شاہکار نہیں، بلکہ ملکی خود مختاری کے لیے جان دینے والوں کا ایک خاموش اعتراف ہے۔
منصوبے کی لاگت اور موجودہ معاشی حالات میں اس کی تعمیر پر کچھ حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت معاشی استحکام کی زیادہ ضرورت ہے، تاہم حکومتی ترجمان کے مطابق یہ یادگار قومی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے ناگزیر تھی۔
افتتاحی تقریب کے دوران پراجیکٹ کے سربراہ نے کہا، "یہ صرف پتھر اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ اس پرچم کی قیمت ہے جو آج ہمارے سروں پر لہراتا ہے۔”
اس یادگار کا ڈیزائن روایتی یادگاروں سے ہٹ کر ہے۔ مرکزی ستون کے ساتھ ایسے کتبے نصب کیے گئے ہیں جن پر تاریخ کے اہم سنگ میل درج ہیں۔ اس کا مقصد ریاست کی شان و شوکت دکھانے کے بجائے عام شہری کی اس قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جس نے ملک کی بقا میں کردار ادا کیا۔
عام شہریوں کے لیے یادگار کے دروازے 14 اگست سے کھول دیے جائیں گے۔ انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور علاقے کی نگرانی کے لیے جدید کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
یومِ آزادی کی شام جب یادگار پر روشنیوں کا انعقاد ہوا، تو یہ پورے علاقے میں ایک نمایاں مرکز کے طور پر ابھری۔ آنے والے دنوں میں ہزاروں شہریوں کی آمد متوقع ہے، جو اس مقام کو آزادی کے جشن کا مرکزی نقطہ بنائیں گے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ یادگار محض ایک تعمیراتی ڈھانچہ بنی رہتی ہے یا واقعی قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر عوام کے دلوں میں جگہ بنا پاتی ہے۔
