تہران کے اعلیٰ سفارت کار رواں ہفتے خلیجی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد واضح ہے: خطے کو ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آنے سے روکنا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل، ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
سعودی عرب اور قطر میں ہونے والی یہ ملاقاتیں محض سفارتی رسمی کارروائی نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسی کوشش ہے جس کے ذریعے تہران اور تل ابیب کے درمیان جاری براہِ راست تصادم کو اپنے پڑوسیوں تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔ سعودی حکام، جنہوں نے حال ہی میں ایران کے ساتھ تعلقات بحال کیے ہیں، ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ وہ اپنے ملک میں ایسے امریکی فوجی اثاثوں کی موجودگی سے گریزاں ہیں جو کسی بھی جنگی صورتِ حال میں براہِ راست ہدف بن سکتے ہیں۔
ریاض کے ایک سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "خطہ انتہائی غیر مستحکم صورتِ حال سے گزر رہا ہے۔ ایران یہ جانچنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اسے اپنے پڑوسیوں سے کس حد تک حمایت یا خاموشی مل سکتی ہے۔”
عراقچی کا دورہ پسِ پردہ ہونے والی ہنگامی بات چیت کا تسلسل ہے۔ گزشتہ ہفتے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ایک غیر معمولی ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس کا مرکزی نقطہ علاقائی استحکام تھا۔ تاہم، جب دونوں اطراف سے کسی بھی لمحے نئے حملوں کا خدشہ ہو، تو استحکام کی ضمانت دینا مشکل ہوتا ہے۔
اس کشیدگی کے معاشی مضمرات بھی سنگین ہیں۔ آبنائے ہرمز—جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے—اس تنازع کی زد میں ہے۔ اگر جنگ کے باعث ٹینکرز کی نقل و حمل متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا۔ خلیجی ریاستیں بخوبی جانتی ہیں کہ ان کے اپنے اہم بنیادی ڈھانچے، جیسے ڈی سیلینیشن پلانٹس اور آئل ٹرمینلز، کسی بھی وسیع تر جنگ میں پہلا ہدف بن سکتے ہیں۔
تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملہ کیا تو وہ "غیر روایتی” طاقت کا استعمال کرے گا۔ یہ دھمکی خطے کے دارالحکومتوں کے لیے ایک پریشان کن پیغام ہے۔ اگرچہ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ مکمل جنگ نہیں چاہتا، لیکن اس کے اقدامات اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیاں زمینی حقائق کچھ اور بتا رہی ہیں۔
فی الحال، خلیجی ریاستیں ایک محتاط ثالث کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ بیک وقت واشنگٹن پر زور دے رہی ہیں کہ اسرائیل کو تحمل کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کرے، اور دوسری جانب تہران پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ اشتعال انگیز بیان بازی میں کمی لائے۔
یہ ملاقاتیں کسی ٹھوس نتائج پر منتج ہوں گی یا محض سفارتی بیانات تک محدود رہیں گی؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا، لیکن فی الحال پورا خطہ ایک غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہے۔
