کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں منگل کی علی الصبح ایک گھر میں لگنے والی خوفناک آگ نے ایک ماں اور اس کے تین بچوں کی جان لے لی۔ ریسکیو حکام اور مقامی پولیس کے مطابق، آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ متاثرہ خاندان کو نکلنے کا موقع نہ مل سکا۔
جاں بحق ہونے والوں میں 30 سالہ ثمینہ اور ان کے تین بچے—7 سالہ عائشہ، 5 سالہ حمزہ اور 3 سالہ علی—شامل ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، آگ اس وقت لگی جب پورا خاندان سو رہا تھا۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ گھر سے دھماکے کی آواز آئی، جس کے فوراً بعد شعلے بلند ہو گئے۔ فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی یا اس کے پیچھے کوئی اور محرک کارفرما ہے۔
اس المناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر مقامی لوگوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ تنگ گلیوں اور تجاوزات کے باعث فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو موقع پر پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ جب تک آگ پر قابو پایا گیا، چھوٹے سے گھر کی چھت گر چکی تھی اور اندر موجود چاروں افراد دم توڑ چکے تھے۔
ایک پڑوسی نے بتایا، "ہم نے زوردار آواز سنی اور پھر ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔ ہم نے اندر جانے کی کوشش کی لیکن تپش اتنی زیادہ تھی کہ قریب جانا بھی ممکن نہ تھا۔”
کراچی کے گنجان آباد علاقوں میں رہائشی مکانات میں آتشزدگی کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ ناقص وائرنگ اور ہنگامی حالات میں گزرگاہوں کا نہ ہونا ہے۔ لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ آنے تک کسی بھی پہلو کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہسپتال کے باہر لواحقین کا غم سے برا حال ہے، جبکہ مقامی کمیونٹی انتظامیہ سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ایسی بستیوں میں ہنگامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔
