ہتھیاروں کی موجودگی کی تصدیق کردی
واشنگٹن: امریکا نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس نے زمین کے مدار میں خلائی کنٹرول کے لیے ہتھیار تعینات کر رکھے ہیں۔ اس اعلان کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا، چین اور روس کے درمیان خلا میں ہتھیاروں کی ایک نئی اور خطرناک دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔
امریکی حکام کا اہم اعلان
امریکی سیکریٹری آف ایئر فورس ٹروئے مینک نے ایئر، اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس اب ایسے “on-orbit space-control weapons” موجود ہیں جو دشمن کی جانب سے ممکنہ کارروائیوں کے خلاف امریکی افواج کا دفاع کرسکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے ان ہتھیاروں کی نوعیت، تعداد، تعیناتی کی تاریخ یا ان کی مخصوص صلاحیتوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معلومات کو ظاہر کرنا امریکی دفاعی حکمتِ عملی اور deterrence یعنی دشمن کو حملے سے روکنے کے مقصد کا حصہ ہے۔
یہ ہتھیار کس نوعیت کے ہوسکتے ہیں؟
امریکی حکام نے واضح نہیں کیا کہ مدار میں موجود ہتھیار کس قسم کے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خلائی کنٹرول کے ہتھیاروں میں کئی اقسام کی ٹیکنالوجیز شامل ہوسکتی ہیں، جن میں:
-
سیٹلائٹ سگنلز کو جام کرنے والے آلات۔
-
لیزر یا دیگر directed-energy systems۔
-
دشمن کے سیٹلائٹس کو متاثر یا ناکارہ بنانے والی ٹیکنالوجی۔
-
الیکٹرانک اور سائبر صلاحیتیں۔
-
ایسے kinetic weapons جو کسی سیٹلائٹ کو جسمانی طور پر تباہ کرسکیں۔
تاہم امریکی حکام کی جانب سے یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ مدار میں موجود ہتھیاروں میں سے کون سی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ایسے نظاموں کو ترجیح دے رہا ہے جو سیٹلائٹس کو تباہ کرنے کے بجائے ان کے سگنلز یا آپریشنز کو متاثر کریں، کیونکہ سیٹلائٹ تباہ کرنے سے خطرناک خلائی ملبہ پیدا ہوسکتا ہے۔
چین اور روس سے بڑھتی ہوئی کشیدگی
امریکا نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے چین اور روس کی خلائی سرگرمیوں کو خطرے کی وجہ قرار دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق چین اور روس گزشتہ کئی برسوں سے ایسی ٹیکنالوجیز تیار کررہے ہیں جن کے ذریعے دشمن کے سیٹلائٹس کو نگرانی، مداخلت یا حملے کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
چین کے سیٹلائٹس کی جانب سے امریکی خلائی اثاثوں کے قریب خطرناک حد تک maneuvering اور روس کی جانب سے anti-satellite صلاحیتوں کی تیاری نے واشنگٹن میں تشویش پیدا کی ہے۔ روس نے 2021 میں ایک ناکارہ سیٹلائٹ کو میزائل سے تباہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ٹکڑوں پر مشتمل خلائی ملبہ پیدا ہوا۔
امریکی اعلان کے بعد چین نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ خلا کو جنگ کا میدان بنانے سے گریز کرے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ خلا کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنا اور وہاں ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنا عالمی سلامتی کے لیے خطرناک ہوگا۔ چین نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ خلا میں عسکری سرگرمیوں کو بڑھانے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرے۔
روس نے بھی طویل عرصے سے خلا کو ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی حمایت کی ہے، اگرچہ ماسکو خود بھی خلائی جنگ سے متعلق صلاحیتوں کی تیاری کے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے۔
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کیوں خطرناک ہے؟
ماہرین کے مطابق خلا میں فوجی تصادم کے اثرات صرف سیٹلائٹس تک محدود نہیں رہیں گے۔
دنیا کا مواصلاتی نظام، GPS، موسم کی پیش گوئی، بینکنگ، انٹرنیٹ، فوجی نگرانی اور میزائل وارننگ سسٹمز بڑی حد تک سیٹلائٹس پر انحصار کرتے ہیں۔
اگر کسی تنازع کے دوران سیٹلائٹس کو نشانہ بنایا گیا تو:
-
عالمی مواصلاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
-
نیویگیشن اور GPS سروسز میں خلل آسکتا ہے۔
-
فوجی اور شہری نگرانی کے نظام متاثر ہوسکتے ہیں۔
-
خلائی ملبہ دیگر سیٹلائٹس کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔
-
زمین کے گرد مدار میں موجود خلائی سرگرمیاں کئی برسوں تک خطرناک بن سکتی ہیں۔
خاص طور پر kinetic anti-satellite weapons کے استعمال سے پیدا ہونے والا ملبہ ایک domino effect پیدا کرسکتا ہے، جس میں ایک سیٹلائٹ کی تباہی کے ٹکڑے دوسرے سیٹلائٹس سے ٹکرا کر مزید ملبہ پیدا کرتے ہیں۔
1967 کا خلائی معاہدہ کیا کہتا ہے؟
1967 کے Outer Space Treaty کے تحت خلا میں جوہری اور دیگر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی ہے۔
تاہم یہ معاہدہ ہر قسم کے روایتی یا غیر تباہ کن خلائی ہتھیاروں پر مکمل پابندی عائد نہیں کرتا۔ اسی قانونی خلا کی وجہ سے امریکا، روس اور چین سیٹلائٹ جامنگ، نگرانی، لیزر اور دیگر counter-space ٹیکنالوجیز پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکا کا مؤقف
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلا اب فوجی اور معاشی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہوچکا ہے، اس لیے امریکا کو وہاں آزادانہ طور پر کام کرنے اور اپنے خلائی اثاثوں کے دفاع کی صلاحیت برقرار رکھنا ضروری ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ ہتھیار حملے کے لیے نہیں بلکہ دشمن کو کارروائی سے روکنے اور امریکی افواج کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی جانب سے مدار میں ہتھیاروں کی موجودگی کی کھلی تصدیق دوسرے ممالک کو بھی اسی راستے پر چلنے کا جواز فراہم کرسکتی ہے۔
نئی خلائی جنگ کا آغاز؟
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا یہ اعلان ایک اہم موڑ ہے۔ اگر چین اور روس بھی اپنے مدار میں موجود ہتھیاروں یا خلائی جنگی صلاحیتوں کا کھل کر اعلان کرتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر عسکری مقابلہ مزید تیز ہوسکتا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ ہتھیار صرف دفاعی deterrence کے لیے استعمال ہوں گے یا مستقبل میں خلا کو حقیقی جنگی میدان میں تبدیل کردیں گے۔
ماہرین کا انتباہ ہے کہ خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کے بعد اسے روکنا مشکل ہوسکتا ہے، جبکہ اس کے اثرات زمین پر موجود اربوں انسانوں، مواصلاتی نظام اور عالمی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں
