قدرتی آفات کے بعد جب کیمرے اور امدادی ٹیمیں رخصت ہو جاتی ہیں، تو اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ سیلاب ہو یا زلزلہ، متاثرین اب حکومتی امداد کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے بجائے خود اپنی مدد آپ کے تحت نیٹ ورک بنا رہے ہیں۔ یہ مقامی گروہ اب روایتی فلاحی اداروں سے زیادہ تیزی سے کام کر رہے ہیں۔
امدادی کارروائیوں کے ابتدائی 48 گھنٹے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ان گھنٹوں میں بننے والے مقامی اتحاد اب ایک مستقل نظام کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ متاثرین نے اپنے علاقوں کی میپنگ شروع کر دی ہے؛ کون طبی مدد دے سکتا ہے، کس کے پاس جنریٹر ہے اور کون سا گھر محفوظ ہے۔ یہ رویہ بے بسی سے نکل کر فعال انتظام کی طرف ایک عملی قدم ہے۔
جنوبی پنجاب کے ایک سیلاب زدہ علاقے میں امدادی نیٹ ورک چلانے والی آمنہ کہتی ہیں، "ہم نے ٹرکوں کا انتظار نہیں کیا۔ ہمیں معلوم تھا کہ کس بزرگ کو سڑک تک پہنچنے میں مدد چاہیے۔ ہم نے کسی ٹھیکیدار کے بجائے خود ذمہ داری اٹھائی کیونکہ ہم یہاں کے جغرافیے سے واقف تھے۔”
تحقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جو متاثرین اپنے مقامی نیٹ ورکس سے جڑے رہتے ہیں، وہ سرکاری امداد پر انحصار کرنے والوں کی نسبت جلد بحال ہو جاتے ہیں۔ یہ گروہ ان کاغذاتی پیچیدگیوں اور فارمز سے آزاد ہوتے ہیں جو اکثر غریب اور بے سہارا لوگوں کو امداد سے محروم کر دیتے ہیں۔
تاہم، اس خود انحصاری کی قیمت بھی ہے۔ رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے خود بھی متاثرین ہوتے ہیں اور مسلسل دباؤ کے باعث نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو باقاعدہ تربیت ہوتی ہے اور نہ ہی سرکاری امدادی کارکنوں جیسی قانونی تحفظات۔ جب وسائل ختم ہوتے ہیں، تو یہ گروہ بکھر جاتے ہیں اور کمیونٹی دوبارہ تنہا رہ جاتی ہے۔
حکومتیں اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہیں۔ کچھ اضلاع میں مقامی رہنماؤں کو سرکاری ہنگامی منصوبوں کا حصہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ ریاستی مشینری ہر گھر تک نہیں پہنچ سکتی۔ لیکن کشمکش بدستور برقرار ہے؛ ریاست ضابطوں اور پروٹوکول کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ متاثرین کو فوری اور براہ راست مدد درکار ہوتی ہے۔
مستقبل کی آفات ناگزیر ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیاں جس شدت سے آ رہی ہیں، آنے والے وقت میں مضبوط پل اور دیواریں ہی کافی نہیں ہوں گی۔ اصل دفاع وہی مقامی نیٹ ورک ہوں گے، جو کسی اور کے آنے کا انتظار کیے بغیر اپنی بقا کا راستہ خود تلاش کرتے ہیں۔
