قاہرہ — مصر کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے سعودی عرب کے سمندری تحفظ کے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے خطے کی معاشی صورتحال کو چیلنج کر دیا ہے۔
قاہرہ نے واضح کیا کہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی سیکیورٹی صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی تجارت کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ مصری وزارت خارجہ کے ترجمان احمد ابو زید نے اشارہ دیا کہ قاہرہ، ریاض کے ساتھ مل کر ان راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
مصر کے لیے یہ معاملہ براہ راست اس کی معیشت سے جڑا ہے۔ نہر سویز مصر کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اور جب بحری جہاز خطرے کے پیش نظر بحیرہ احمر کا راستہ چھوڑ کر طویل متبادل راستے اختیار کرتے ہیں، تو مصر کو ٹرانزٹ فیس کی مد میں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
خطے کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ قاہرہ اور ریاض اپنی سیکیورٹی حکمت عملی کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ جہاں سعودی عرب اپنی ساحلی تنصیبات کے دفاع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، وہیں مصر اپنی بحری فوج کو ان راستوں کی حفاظت کے ضامن کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
قاہرہ میں مقیم ایک سیکیورٹی ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ان راستوں کا استحکام ناقابلِ مذاکرات ہے۔ مصر یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اپنی معاشی شہ رگ کو علاقائی کشیدگی کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے گا۔”
سعودی حکام کی جانب سے ابھی تک مشترکہ فوجی کارروائیوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم قاہرہ کی طرف سے ملنے والی سفارتی حمایت نے ریاض کو ایک مضبوط سیاسی پوزیشن فراہم کی ہے۔ یہ عرب ممالک کے درمیان ایک متحد محاذ کی عکاسی کرتا ہے تاکہ بحیرہ احمر کے راستوں کو مزید عسکریت پسندی کی نذر ہونے سے بچایا جا سکے۔
مصری حکومت نے اپنے بیان میں واضح کر دیا ہے کہ اب صرف سفارتی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ اپنی معاشی بقا کو سعودی بحری مفادات سے جوڑ کر، قاہرہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستے کو محفوظ بنانے کے لیے مزید ٹھوس اور عملی اقدامات کرے۔
