پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کے ریلیف پیکیج کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ڈیلرز کا موقف ہے کہ حکومتی منصوبہ ان کے کاروبار کو دیوالیہ کرنے کے مترادف ہے، جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرول کی سپلائی معطل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکومت نے ریلیف پیکیج کے تحت پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا عندیہ دیا تھا، جس کا بوجھ ڈیلرز کے مارجن پر ڈالنے کی تجویز تھی۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بجلی کے بھاری بلوں، عملے کی تنخواہوں اور دیگر آپریٹنگ اخراجات کے بعد، موجودہ مارجن پہلے ہی ان کی بقا کے لیے ناکافی ہے۔
کراچی میں ایک ہنگامی اجلاس کے بعد ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "ہم خیرات نہیں بانٹ رہے۔ حکومت اپنی ناکامی کا بوجھ ہم پر ڈال کر عوام کو ریلیف دکھانا چاہتی ہے۔ ہم اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔”
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈیلرز کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ایک سرکاری ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت قیمتوں میں استحکام کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی ملکی معیشت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس تنازع کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑے گا۔ ایسوسی ایشن نے پہلے ہی اپنے ممبران کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے نیا اسٹاک خریدنے سے روک دیا ہے۔ اگر یہ ڈیڈ لاک برقرار رہا تو اگلے 48 گھنٹوں کے اندر ملک بھر کے پیٹرول پمپ خشک ہو سکتے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہوگا۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اصل مسئلہ حکومت کی جانب سے ایندھن پر عائد بھاری لیویز اور ٹیکسز ہیں، جنہیں کم کیے بغیر ریلیف ممکن نہیں۔ حکومت آئی ایم ایف کے اہداف کے دباؤ میں ہے، جبکہ ڈیلرز مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث اپنے مارجن میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حکومت اور ڈیلرز کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور بدھ کو متوقع ہے۔ اگر دونوں فریقین نے لچک نہ دکھائی تو عوام کو ایک بار پھر پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
