مظفر آباد — مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے صدارتی انتخاب کے لیے ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو پارٹی کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت کے بعد کیا گیا جس کا مقصد آزاد کشمیر کی سیاست میں پارٹی کی گرفت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
ڈاکٹر نجیب نقی کا شمار آزاد کشمیر کے تجربہ کار سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ وہ ماضی میں وزیر صحت کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کا شمار پارٹی کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ان کی نامزدگی کو سیاسی حلقوں میں ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کی موجودہ اسمبلی میں سیاسی صورتحال کافی پیچیدہ ہے۔ صدارتی انتخاب کا یہ عمل حکمران اتحاد کے لیے ایک کڑے امتحان سے کم نہیں۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) اسمبلی میں ایک مضبوط پوزیشن رکھتی ہے، لیکن صدارتی کرسی تک پہنچنے کے لیے انہیں اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
انتخابی عمل کے حوالے سے حزب اختلاف کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا موقف ہے کہ ڈاکٹر نجیب نقی کا انتخاب انتظامی تجربے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ صدارتی منصب پر ایسا شخص ہو جو آئینی حدود میں رہ کر کام کرے اور سیاسی تناؤ سے گریز کرے۔
ڈاکٹر نجیب نقی کے لیے اگلا مرحلہ اسمبلی کے ارکان کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔ صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل جاری ہے اور سیاسی ہلچل میں تیزی آ چکی ہے۔ آنے والے چند روز میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ نامزدگی حکمران اتحاد میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے یا اس سے اندرونی اختلافات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
فی الحال مسلم لیگ (ن) کو اپنی عددی برتری پر بھروسہ ہے، مگر آزاد کشمیر کی سیاست میں آخری لمحات کے بدلتے رجحانات کسی بھی نتیجے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
