اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نتن یاہو نے اپنے حالیہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ غزہ اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں بالآخر "مشرقِ وسطیٰ کا چہرہ بدل دیں گی۔” یہ بیان محض ایک جنگی حکمتِ عملی نہیں، بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے اسرائیلی عزائم کا کھل کر اظہار ہے۔
اس وقت اسرائیلی ڈیفنس فورسز ایک ساتھ کئی محاذوں پر سرگرم ہیں۔ غزہ میں حماس کے باقی ماندہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ شمالی سرحد پر حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں میں شدت لائی گئی ہے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
نتن یاہو کا موقف ہے کہ ماضی کی "تحفظاتی حکمتِ عملی” ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروپوں کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے ہی غیر مؤثر کیا جا سکتا ہے تاکہ اسرائیل کی سلامتی کو طویل المدتی بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم اس نظریے پر کاربند ہیں کہ خطے میں موجود بفر زونز اور پراکسی گروپوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔
تاہم، تجزیہ کاروں کا ایک بڑا حلقہ اس حکمتِ عملی کو خطرے سے خالی نہیں سمجھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکری طاقت سے گروپوں کو کمزور تو کیا جا سکتا ہے، لیکن جنگ کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی خلا ایک نیا بحران جنم دے سکتا ہے۔ اگر جنگ کے بعد حکومت سازی کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہ ہوا، تو نتن یاہو کا "نئے مشرقِ وسطیٰ” کا خواب امن کے بجائے طویل عدم استحکام کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے مغربی اتحادی بھی اس صورتِ حال پر محتاط ہیں۔ اگرچہ امریکہ فوجی امداد فراہم کر رہا ہے، لیکن بائیڈن انتظامیہ مسلسل سفارتی حل پر زور دے رہی ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ جنگ براہِ راست تہران اور واشنگٹن کے تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
اسرائیل کے اندر بھی صورتِ حال پیچیدہ ہے۔ ایک طرف حکومت پر فوجی دباؤ برقرار رکھنے کا مطالبہ ہے، تو دوسری طرف یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے مظاہرین سڑکوں پر ہیں۔ نتن یاہو کو اپنی داخلی سیاسی ساکھ بچانے اور جنگی اہداف کے حصول کے درمیان ایک کٹھن توازن قائم کرنا ہے۔
نتن یاہو کے اس اعلان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب 7 اکتوبر سے پہلے والی صورتِ حال کی واپسی ممکن نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فوجی جارحیت واقعی خطے کو مستحکم کرے گی یا اسے مزید گہرے انتشار میں دھکیل دے گی۔ فی الحال، مشرقِ وسطیٰ کی سرحدیں میدانِ جنگ میں طے ہو رہی ہیں اور نتائج کا دارومدار آنے والے دنوں کی عسکری پیش رفت پر ہے۔
