کراچی میں ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سرکاری حکام، میری ٹائم ماہرین اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں پاکستان کی معیشت میں سمندری تجارت، بندرگاہوں، شپنگ انڈسٹری اور سمندری وسائل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
شرکاء نے کہا کہ پاکستان کے پاس وسیع سمندری صلاحیت موجود ہے جسے تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بہتر انفراسٹرکچر اور میری ٹائم شعبے سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دینا ضروری ہے۔
کانفرنس میں سمندری سفر اور جہاز رانی کے دوران حفاظتی اقدامات کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ وائس ایڈمرل عبدالمعید نے کہا کہ جہازوں پر سیفٹی ڈرلز کا انعقاد اور حفاظتی قوانین پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ باقاعدہ تربیت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری سمندری سرگرمیوں میں خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میری ٹائم سیکٹر کی پائیدار ترقی کے لیے صرف اچھی پالیسیاں بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ حکومت، متعلقہ اداروں، شپنگ انڈسٹری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے پاکستان کے سمندری وسائل اور بنیادی ڈھانچے سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
کانفرنس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی، ہنرمند افرادی قوت، حفاظتی شعور، مؤثر پالیسیوں اور اداروں کے درمیان تعاون پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
