2025 کا پاک-بھارت تنازع حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے سنگین کشیدگیوں میں سے ایک کے طور پر سامنے آیا، جس نے عالمی سطح پر علاقائی استحکام اور دو جوہری طاقتوں کے درمیان ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا۔
یہ بحران جموں و کشمیر میں ایک مہلک شدت پسند حملے کے بعد شروع ہوا، جس کا الزام بھارت نے پاکستان میں موجود گروہوں پر عائد کیا۔ اسلام آباد نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں “بے بنیاد” قرار دیا اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات محدود کر دیے اور سخت بیانات کے تبادلے سے کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی۔
چند ہی دنوں میں صورتحال لائن آف کنٹرول پر بگڑ گئی، جہاں فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے گئے، جس کے باعث سرحدی دیہات کے شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ فوجی تیاریوں میں اضافہ ہوا اور دونوں طرف سے فوجی نقل و حرکت اور ہائی الرٹ کی اطلاعات ملیں۔
بین الاقوامی قوتوں، جن میں اقوام متحدہ اور بڑی طاقتیں جیسے امریکہ اور چین شامل ہیں، نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔ پس پردہ سفارتی رابطے جاری رہے اور مزید فوجی تصادم کو روکنے کی کوششیں کی گئیں۔
جب کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی تو محدود سرحد پار حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات آئیں، تاہم دونوں حکومتوں نے مکمل جنگی کارروائیوں کی تصدیق سے گریز کیا۔ شدید سفارتی کوششوں، بیک چینل مذاکرات اور جنگ بندی کے معاہدوں کی تجدید کے بعد صورتحال میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی۔
بحران کے اختتام تک پاکستان اور بھارت دونوں نے مزید کشیدگی سے گریز کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور مذاکرات اور علاقائی امن پر زور دیا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق بنیادی تنازعات، خصوصاً کشمیر کا مسئلہ، اب بھی حل طلب ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں کشیدگی کا امکان برقرار ہے۔
2025 کے اس تنازع نے جنوبی ایشیا میں امن کی نازک صورتحال کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مستقبل کے بحرانوں سے بچنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں نہایت ضروری ہیں۔
