ایران کے اعلیٰ سفارتکار عباس عراقچی نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے، جن میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور اہم علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات عراقچی کے سرکاری دورۂ چین کے دوران ہوئی، جہاں بات چیت کا مرکز تعاون کو مضبوط بنانا اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔ چین ایران کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے۔
مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ چینی حکام نے تحمل، خودمختاری کے احترام اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔
اس دورے کو ایران کی جانب سے عالمی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی روابط بڑھانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کا کردار کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں بھی کشیدگی کم کرنے اور توانائی کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں بھی ہوئے ہیں جب چینی قیادت کی عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، جو عالمی تنازعات میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے ثالثی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
