کراچی: کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) پر بحری تجارت اور کثیرالمقاصد کارگو ہینڈلنگ کے نئے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے، جس کے تحت بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
کراچی پورٹ پر ڈریجنگ کا کام مکمل ہونے کے بعد برتھ کی گہرائی 15 میٹر تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث کراچی گیٹ وے ٹرمینل (کے جی ٹی ایم ایل) اب بڑے بحری جہازوں کی ہینڈلنگ کے لیے تیار ہوگیا ہے۔
حکام کے مطابق بندرگاہ پر اب ایک لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن تک وزنی بلک کارگو جہاز لنگرانداز ہوسکیں گے، جس سے بڑے بحری جہازوں کی آمدورفت اور کارگو آپریشنز میں مزید سہولت پیدا ہوگی۔
منصوبے کے اگلے مرحلے میں جدید شپ اَن لوڈرز، لوڈرز اور 14 فوڈ گریڈ سائلوز قائم کیے جائیں گے۔ سائلوز کمپلیکس کے ذریعے سالانہ 90 لاکھ ٹن تک کارگو ہینڈل کرنے کی گنجائش پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ برآمدی انفراسٹرکچر کے ذریعے سالانہ 85 لاکھ ٹن کارگو ہینڈل کیا جاسکے گا، جس سے پاکستان کی بلک کارگو اور غذائی اجناس کی سپلائی چین مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔
منصوبے کے تحت بحری جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ حکام کے مطابق جہازوں کو بندرگاہ پر 13 دن کے بجائے تقریباً تین دن میں فارغ کیا جاسکے گا۔
تاجر برادری کے لیے بھی منصوبے سے فریٹ اخراجات میں 25 سے 35 فیصد تک کمی کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جس سے درآمدی و برآمدی تجارت کے اخراجات کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
پوسٹ پانامیکس بحری جہازوں کی آمد کے بعد کراچی پورٹ کی بڑے پیمانے پر بحری تجارت میں اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ نئی سہولتوں اور اضافی گنجائش سے بندرگاہ کی کارکردگی اور پاکستان کی بحری تجارتی صلاحیت کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
