عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر یا اس کے قریب رہنے کا امکان ہے، جس سے شدید موسمی خطرات میں اضافہ ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 سے 2029 کے درمیان کسی ایک سال کے 2024 کے گرم ترین سال کا ریکارڈ توڑنے کے 80 فیصد امکانات ہیں جبکہ کم از کم ایک سال کے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرم ہونے کے امکانات 86 فیصد ہیں۔
پانچ سالہ اوسط درجہ حرارت کے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھنے کے امکانات 70 فیصد ہیں۔ آرکٹک خطے میں درجہ حرارت میں عالمی اوسط سے ساڑھے تین گنا زیادہ اضافہ متوقع ہے جبکہ برینٹ اور بیرنگ سمندر جیسے علاقوں میں سمندری برف کی مقدار کم ہونے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بارش کے پیٹرن میں تبدیلی کی پیش گوئی کی گئی ہے، جیسے ساحل اور شمالی یورپ میں زیادہ بارش جبکہ ایمیزون کے علاقے میں خشکی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ڈبلیو ایم او کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل کو بیریٹ نے خبردار کیا ہے کہ فی الحال کسی قسم کی بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے اور درجہ حرارت میں ہر معمولی اضافہ ہیٹ ویوز، قحط، سمندر کی سطح میں اضافہ اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ فوری ماحولیاتی اقدامات اور موافقت کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس سال ہونے والی COP30 موسمیاتی کانفرنس سے پہلے جہاں ممالک اپنی نئی ماحولیاتی حکمت عملی پیش کریں گے۔
پیرس معاہدے کا مقصد عالمی درجہ حرارت کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنا ہے، جبکہ کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں ہر معمولی اضافہ اہمیت رکھتا ہے۔ WMO کا ڈیٹا دنیا بھر کے 15 اداروں کے ماڈلز پر مبنی ہے جس کی قیادت برطانیہ کا میٹ آفس کر رہا ہے، اور اس کا مقصد پالیسی سازوں کو تازہ ترین سائنسی معلومات فراہم کرنا ہے۔
