ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں میں کھانے کی بیماریوں (ایٹنگ ڈس آرڈرز) کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان بیماریوں میں اینوریکسیا، بلیمیا اور بنج ایٹنگ شامل ہیں، جن کی شرح 2000 سے 2018 کے درمیان دنیا بھر میں دوگنی ہو گئی — اور یہ وہی دور ہے جب سوشل میڈیا تیزی سے عام ہوا۔
فرانسیسی ماہر غذائیت کیرول کوپتی کے مطابق، اب کھانے کی بیماریوں کا علاج کرتے وقت سوشل میڈیا کے اثرات کو بھی لازمی طور پر شامل کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک "ٹریگر، تیزی سے بگاڑ پیدا کرنے والا، اور صحتیابی میں رکاوٹ” بن چکا ہے۔
ٹک ٹاک پر #skinnytok جیسے رجحانات نوجوانوں کو خطرناک حد تک کم کھانے اور غیر صحت مند طریقوں سے وزن کم کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، جیسے قے کرنا یا لیکسٹیو کا استعمال کرنا۔ ایسی ویڈیوز کو لاکھوں لائکس اور ویوز ملتے ہیں، جو ان افراد کو مزید ایسا کرنے پر اکساتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا پر ملنے والی جعلی یا گمراہ کن غذا سے متعلق معلومات پر جلدی یقین کر لیتے ہیں، جیسے صرف 1000 کیلوریز پر گزارا کرنا یا کھانے کے ناغے کرنا، جو دراصل صحت کے لیے خطرناک ہے۔
تحقیقات کے مطابق اینوریکسیا ذہنی بیماریوں میں سب سے زیادہ اموات کی وجہ بنتی ہے، جبکہ فرانس میں 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں قبل از وقت اموات کی دوسری بڑی وجہ ایٹنگ ڈس آرڈرز ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر خود کو کوچ ظاہر کرنے والے بعض افراد خطرناک اور غیر قانونی مشورے دیتے ہیں، جن کا اثر ادارہ جاتی معلومات سے زیادہ ہوتا ہے۔
کچھ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ نوجوان، خاص طور پر متاثرہ افراد، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک کو مکمل طور پر حذف کر دیں تاکہ وہ نقصان دہ مواد سے محفوظ رہیں۔
