پاکستان کی تمام سرکاری جامعات کے اساتذہ کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (FAPUASA) نے ملک بھر کی جامعات میں "یومِ سیاہ” منایا، جس کا مقصد حکومت کی اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے لاپروائی اور مسلسل نظراندازی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا تھا۔
اساتذہ نے احتجاج کے طور پر سیاہ پٹیاں باندھیں اور تعلیمی سرگرمیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تمام تاخیر شدہ تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں، جامعات کو ان کی خودمختاری واپس دی جائے اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے۔
FAPUASA کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج اس بڑھتی ہوئی مایوسی کی علامت ہے جو اساتذہ میں مہنگائی، روزگار کی غیر یقینی صورتحال اور بجٹ میں کٹوتیوں کی وجہ سے پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر شدید غفلت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی اپیلوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مطالبات نہ مانے تو احتجاج کو ملک گیر ہڑتال میں بدل دیا جائے گا، جس سے جامعات کا تعلیمی نظام اور تحقیقی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ بھی اس بحران کو اجاگر کرے اور اعلیٰ تعلیم کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
