سنہ 1951، تہران کے گلی کوچوں میں ایک نئی امید جاگ رہی تھی۔ ایک شخص، جو نہ شاہی خاندان سے تھا، نہ کسی مغربی ایجنڈے کا نمائندہ، عوام کے ووٹوں سے ایران کا وزیرِاعظم منتخب ہوا۔ نام تھا محمد مصدق۔ وہ ایک تعلیم یافتہ، اصول پسند اور محب وطن رہنما تھا۔ مصدق نے آتے ہی وہ فیصلہ کیا جس کا خواب ایرانی عوام برسوں سے دیکھ رہے تھے — ملک کے قدرتی وسائل، خاص طور پر تیل، کو قومی ملکیت میں لینا۔
اس وقت ایران کا تیل مکمل طور پر برطانوی کمپنی Anglo-Iranian Oil Company (جو آج کی BP ہے) کے کنٹرول میں تھا۔ کروڑوں بیرل تیل مغرب لے جا رہا تھا، مگر ایران کے عوام غربت، بے روزگاری اور بدحالی کا شکار تھے۔ مصدق نے اعلان کیا کہ اب یہ تیل ایران کا ہوگا، ایرانی عوام کا ہوگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مغرب، خاص طور پر برطانیہ اور امریکہ نے فیصلہ کیا کہ مصدق کو ہٹانا ہوگا۔
1953 میں CIA اور MI6 نے مشترکہ طور پر ایک خفیہ آپریشن شروع کیا جس کا نام تھا “Operation Ajax”۔ اس آپریشن کے ذریعے مصدق کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں، مذہبی طبقات اور بازاروں کو ورغلایا گیا، عوامی احتجاج کو منظم کیا گیا، اور بالآخر فوج کے ذریعے مصدق کو معزول کر کے ایک بار پھر بادشاہت کو اقتدار سونپ دیا گیا۔
یہ بادشاہت کسی عام بادشاہ کی نہیں تھی — بلکہ وہ تھی محمد رضا پہلوی کی، جو مغربی ایجنڈے کا سب سے بڑا محافظ تھا۔ شاہ نے جمہوریت کو دفن کر دیا، عوامی حقوق کا گلا گھونٹا، اور ایران کو ایک پولیس اسٹیٹ میں بدل دیا۔ اس نے Savak نامی خفیہ ایجنسی بنائی جو مخالفین کو اغوا، تشدد اور قتل کرتی تھی۔ آزادیٔ اظہار، سیاسی اختلاف، یہاں تک کہ مذہبی آزادی بھی خطرے میں پڑ گئی۔ شاہ نے ایران کی دولت کو عیش و عشرت میں ضائع کیا — سونے کے محلات، قیمتی تاج، اور جشنِ بادشاہت پر لاکھوں ڈالر اڑا دیے، جبکہ عام ایرانی بھوک سے مر رہے تھے۔
ان مظالم کے خلاف عوام نے بالآخر بغاوت کر دی، اور 1979 میں ایک عظیم اسلامی انقلاب برپا کیا گیا۔ شاہ کو ملک چھوڑ کر فرار ہونا پڑا، اور ایران میں ایک نئی، عوامی اور خودمختار حکومت قائم ہوئی۔ اس انقلاب نے ایران کو استعماری طاقتوں سے نجات دلائی، اور مغرب کو ایک ایسا سبق سکھایا جسے وہ آج تک نہیں بھولا۔
تاہم مغرب نے اس شکست کو کبھی قبول نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ ایران کو کمزور کرنے کے لیے نئی نئی چالیں چلتا رہا۔ حالیہ دنوں میں جب اسرائیل نے ایران پر براہِ راست حملہ کیا، تو اس کارروائی کا کوڈ نام رکھا گیا: “رائزنگ لائن” (Rising Lion)۔ یہ نام اتفاقیہ نہیں، بلکہ علامتی ہے — یہ پہلوی دور کے پرانے ایرانی جھنڈے کی علامت "شیر” کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے: مغرب اب بھی ایران میں پہلوی خاندان کی واپسی چاہتا ہے، اور اسی نظام کو دوبارہ مسلط کرنا چاہتا ہے جو عوام پر ظلم، جبر اور غلامی کا دور تھا۔
یہی وہ مغرب ہے جو ایک طرف جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، اور دوسری طرف 1953 میں جمہوریت کو روندتا ہے، آمریت کو بحال کرتا ہے، اور آج ایک خودمختار ریاست پر حملہ کر کے پھر اسی پرانے نظام کی واپسی چاہتا ہے۔
محمد مصدق کی کہانی محض ایک شخص کی نہیں، بلکہ ایک قوم کی خودمختاری کی جنگ کی علامت ہے۔ آج جب مغرب اور اسرائیل مل کر ایک بار پھر ایران کو جھکانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں اگر اپنی تاریخ بھول جائیں، تو پھر غلامی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

یہ تحریر نہ صرف تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ آج کے سیاسی منظرنامے کو بھی بہتر تناظر میں دیکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
حنان قائم خانی کی یہ کاوش بلاشبہ ایک باشعور صحافی اور تجزیہ نگار کے سفر کی شروعات ہے۔
بہت شکریہ! آپ کی محبت اور حوصلہ افزائی میرے لیے باعثِ فخر ہے۔