وجیہہ بتول:
اسماعیلی شیعہ مسلمانوں کے درمیان مخصوص جھنڈے استعمال ہوتے ہے، جو سبز اور سرخ رنگوں پر مشتمل ہیں۔ سبز رنگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم اور حضرت علی علیہ السلام کی چادر کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ سرخ پرچم خون کی علامت ہے۔ یہ جھنڈا 1986 میں آغا خان چہارم کی جانب سے اسماعیلی برادری کے نئے آئین کے تحت باقاعدہ طور پر متعارف کرایا گیا تھا
حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کے گنبد پر سرخ علم لہرانا:
منگل کی شام، 30 صفر المظفر 1441 ہجری بمطابق 29 اکتوبر 2019 کو مغرب و عشاء کی نمازوں کے بعد حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے روضہ اقدس کے گنبد پر نصب سیاہ علم کو اُتار کر اس کی جگہ سرخ علم بلند کیا گیا۔ یہ روایت ہر سال اس وقت انجام دی جاتی ہے جب محرم اور صفر کے مہینوں میں منائے جانے والی ایامِ حزن و غم کی مدت مکمل ہو جاتی ہے اور ربیع الاول کے مہینے کا آغاز ہوتا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سرخ علم پورے دس مہینوں تک گنبد پر لہراتا رہتا ہے۔ سرخ علم اس بات کی علامت ہے کہ مزار کے مالک کو شہید کیا گیا تھا مگر ان کے خون کا بدلہ ابھی تک نہیں لیا گیا۔ چونکہ عربوں میں یہ رسم رائج تھی کہ جس شخص کو قتل کیا جاتا اور اس کا بدلہ باقی رہتا، اُس کی قبر پر سرخ جھنڈا نصب کیا جاتا تھا۔ اور جب اس کا انتقام لے لیا جاتا تو سرخ جھنڈا ہٹا دیا جاتا۔ آج بھی کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے برادر حضرت ابو الفضل العباس علمدار علیہ السلام کے روضہ مبارک پر سرخ جھنڈے لہراتے ہیں، جو اس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کہ کربلا میں جو خون بہا وہ نا حق تھا اور اس کا بدلہ لیا جائے گا۔
جب روضوں پر سیاہ علم نصب کیا جاتا ہے تو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ وہ ایام ہیں جن میں ان ہستیوں کو شہید کیا گیا۔ اسی لیے صرف محرم اور صفر کے مہینوں میں امام حسین علیہ السلام اور حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے روضوں پر سیاہ علم نصب کیا جاتا ہے۔
ایران کا مسجد جمکران پر سرخ علم لہرانا:
اسی لئے جب اسرائیل نے ایران پرمحلہ کیا تو وہاں بے گناہ لوگوں کا خون بہا اور انکی جانیں گئیں جس کے نتیجے میں ایران میں اسرائیلی حملوں کے بعد "انتقام کا سرخ پرچم” لہرا گیا یہ پرچم قم شہر کی مسجد جمکران جس کو آخری امام حضرت مہدی علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے اس پر لہرایا گیا اور اس کے بعد دنیا بھر کی امام بارگاہوں پر یہ سرخ پرچم لہرایا گیا اس بات کو یقینی بنایا گیاہے کہ ہم بدلہ لیں گے شیعہ روایات میں سرخ پرچم خون ناحق بہانے کے بعد انصاف اور انتقام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق، یہ پرچم اس وقت لہرایا گیا جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران کے کئی عسکری اور جوہری اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، سائنسدانوں اور عام شہریوں سمیت خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے،
واقعے کے بعد سینکڑوں مظاہرین مسجد جمکران کے باہر جمع ہوئے، جنہوں نے اسرائیل مخالف نعرے لگائے اور ایرانی پرچم لہرائے۔ قم، جو تہران سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے، ایران کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے فوری اور سخت انتقامی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اسرائیل کو "سخت سزا” دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیل کا غیر معمولی حملہ سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔
ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے بیان میں آیت اللہ نے کہا:
"صیہونی حکومت نے ہمارے عزیز ملک میں جرم کا ارتکاب کیا، جس سے اس کی خباثت اور ابلیسیت کھل کر سامنے آ گئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جرم کے نتیجے میں صیہونی حکومت نے اپنے لیے تلخ اور دردناک انجام لکھوا لیا ہے اور وہ اسے ضرور بھگتے گی۔”
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
"اسرائیل کو اس حملے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور ایرانی مسلح افواج کی جانب سے جلد سخت کارروائی کی جائے گی۔”
اب جب تک ایران اپنا انتقام نہیں لیتا تب تک یہ سرخ علم لہراتا رہے گا اس بات کی یاد دہانی کے لیے کہ ابھی ہم نے اپنے پیاروں کے خون کا بدلہ لینا ہے اس انتقام میں تمام مسلم برادری خاص کر شیعہ برادری ان کے ساتھ ہیں۔
(اے ہمارے مولا، اے امامِ زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)، کیا وہ وقت نہیں آیا کہ کربلا میں شہید ہونے والوں کا انتقام لیا جائے؟ کیا وہ گھڑی نہیں آئی کہ آپ اپنے جد امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کے گنبد سے سرخ علم اُتار دیں؟
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،
(اس کتاب (قرآن)میں کوئی شک نہیں یعنی یہ سچی کتاب ہے)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں،
(کہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا اور بے شک باطل مٹنے ہی کی چیز ہے)
تمام اہلِ ایمان کا اس پر مکمل یقین و ایمان ہے
