پاکستان اور آذربائیجان نے دو طرفہ معاشی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تاریخی معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ آذربائیجان کے شہر شوشہ میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی موجودگی میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آذربائیجان کے وزیر معیشت میکائیل جباروف کے درمیان طے پایا۔
معاہدے سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے درمیان خنکندی میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس کے بعد اس اہم پیش رفت کا اعلان کیا گیا۔ معاہدے کی حتمی اور تفصیلی شکل صدر علییف کے آئندہ دورۂ پاکستان کے دوران طے پائے گی۔
دوستی سے معیشت تک — تعلقات کا نیا باب
یہ سرمایہ کاری نہ صرف معاشی سطح پر ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اس معاہدے کو دوطرفہ اعتماد اور مشترکہ ترقی کا مظہر قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"یہ معاہدہ صرف مالی تعاون نہیں بلکہ دوستی، یقین اور ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ آذربائیجان کی طرف سے پاکستان پر اعتماد ایک خوش آئند پیغام ہے۔”
سفارتی کوششوں کی کامیابی
یہ معاہدہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں، مذاکرات اور مشاورت کا نتیجہ ہے، جس میں نائب وزیر اعظم، وزارتِ خارجہ، اور پاکستان کے سفارتی مشن کا کلیدی کردار رہا۔ معاہدے کے تحت پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔
علاقائی تعاون کی نئی راہیں
یہ پیش رفت اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے اجلاس کے موقع پر سامنے آئی ہے، جہاں رکن ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، آبی وسائل اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا:
"ہم نے نہ صرف اقتصادی شراکت داری پر بات کی بلکہ گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے اہم ماحولیاتی مسئلے پر بھی مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا ہے۔”
ترقی اور شراکت کا روشن مستقبل
صدر الہام علییف کا متوقع دورۂ پاکستان اس معاہدے کو مزید مضبوط کرے گا۔ دونوں ممالک مستقبل میں دفاع، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا:
"یہ 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری صرف شروعات ہے۔ آذربائیجان کا اعتماد ہمارے لیے باعث فخر ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید بڑے منصوبے متوقع ہیں۔”
یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے نیا موقع ہے بلکہ خطے میں اقتصادی سفارت کاری اور باہمی ترقی کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے۔
