کراچی: معروف پاکستانی ماڈل، اداکارہ اور سوشل میڈیا پرسنالٹی حمیرا اصغر علی کی لاش کراچی کے ڈیفنس فیز 6 میں واقع ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق، ان کی موت کو تقریباً تین ہفتے گزر چکے تھے اور لاش انتہائی خراب حالت میں ملی۔
یہ افسوسناک واقعہ عدالتی احکامات کے تحت مکان خالی کرانے کی کارروائی کے دوران سامنے آیا، جب مالک مکان، عدالتی بیلف اور پولیس اہلکار کرایہ ادا نہ کیے جانے پر فلیٹ خالی کرانے پہنچے۔ حکام کے مطابق، حمیرا نے 2024 سے کرایہ ادا نہیں کیا تھا، حالانکہ وہ 2018 سے اس فلیٹ میں مقیم تھیں۔
ایس ایچ او گزری تھانہ فاروق سنجرانی کے مطابق، فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا، جس کے باعث دروازہ توڑ کر اندر جانا پڑا۔ اندر داخل ہونے پر حمیرا کی لاش ایک کمرے میں پڑی ملی۔ فرانزک ماہرین کے مطابق، لاش کی حالت دیکھ کر اندازہ ہے کہ موت کو 20 سے 25 دن گزر چکے تھے۔
کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے، جس کے بعد لاش کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق، کسی زبردستی داخلے یا فوری طور پر پرتشدد کارروائی کے شواہد نہیں ملے، جس سے بظاہر موت قدرتی وجوہات سے ہوئی لگتی ہے، تاہم حتمی وجہ موت پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
ایک افسوسناک موڑ اُس وقت آیا جب حمیرا اصغر کے والد نے ان کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ لاش تاحال اسپتال انتظامیہ کی تحویل میں ہے، جب کہ فلیٹ کو سیل کر دیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
