وفاقی حکومت نے منگل کے روز پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جو آئندہ پندرہ دن کے لیے نافذ العمل ہوگا۔
وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، نئی قیمتیں اوگرا اور متعلقہ وزارتوں کی سفارشات کی بنیاد پر طے کی گئی ہیں۔ نئی قیمتیں درج ذیل ہیں:
-
پٹرول: 272.15 روپے فی لیٹر
-
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 284.35 روپے فی لیٹر
مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
پٹرول کا استعمال زیادہ تر موٹر سائیکل، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں ہوتا ہے، جبکہ ڈیزل ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور ٹرینوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے ان کی قیمتیں مہنگائی پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔
اگرچہ پٹرولیم مصنوعات پر کوئی جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد نہیں ہے، حکومت فی لیٹر تقریباً 98 روپے مختلف لیویز کی مد میں وصول کر رہی ہے، جن میں شامل ہیں:
-
پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL): پٹرول پر 78.02 روپے، ڈیزل پر 77.01 روپے
-
کلائمیٹ سپورٹ لیوی (CSL): 2.25 روپے
-
کسٹمز ڈیوٹی: 20–21 روپے فی لیٹر
-
ڈسٹری بیوشن و ریٹیل مارجن: تقریباً 17 روپے فی لیٹر
ملک میں پٹرول اور ڈیزل سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ایندھن ہیں، جن کی ماہانہ کھپت 7 سے 8 لاکھ ٹن ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی کھپت صرف 10 ہزار ٹن ہے۔
مالی سال 2023-24 میں حکومت نے 1.161 ٹریلین روپے پٹرولیم لیوی سے حاصل کیے، جبکہ نئے مالی سال میں یہ ہدف 27 فیصد اضافے کے ساتھ 1.47 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، جو پٹرولیم سیکٹر کی آمدنی میں کلیدی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔
