برطانیہ نے پاکستان کو ایئر سیفٹی لسٹ سے خارج کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستانی ایئرلائنز کو ایک بار پھر برطانیہ کے لیے براہ راست پروازیں چلانے کی اجازت مل گئی ہے۔
یہ فیصلہ برطانوی ایئر سیفٹی کمیٹی نے پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کے ساتھ تکنیکی تعاون اور حفاظتی معیارات کے جائزے کے بعد کیا۔
2020 میں جعلی لائسنس اسکینڈل کے بعد لگنے والی پابندی نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کو بھاری مالی نقصان پہنچایا۔ صرف برطانیہ کی پروازوں کی بندش سے پی آئی اے کو سالانہ 40 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریئٹ نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے ماہرین کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ "اگرچہ پروازیں فوری طور پر بحال نہیں ہوں گی، میں جلد ہی کسی پاکستانی ایئرلائن کے ذریعے سفر کرنے کی منتظر ہوں۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کو پاکستانی ہوا بازی کے شعبے کی بحالی میں "اہم پیش رفت” قرار دیا اور سابق حکومت پر غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے ملک کی ساکھ خراب کرنے کا الزام لگایا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ فیصلہ تین سالہ سفارتی اور انتظامی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سابق وزیر خواجہ سعد رفیق کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
پی آئی اے نے ابتدائی طور پر اسلام آباد سے مانچسٹر تک ہفتہ وار تین پروازوں کی اجازت کے لیے شیڈول جمع کروا دیا ہے۔
یہ پیش رفت رواں سال یورپی یونین کی جانب سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد پی آئی اے نے پیرس کے لیے براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کیں۔
برطانیہ میں مقیم 16 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے لیے یہ اقدام ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا اور دو طرفہ تجارت کو بھی فروغ دے گا۔
