اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 26 نومبر کو فیض آباد میں ہونے والے احتجاج کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 41 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ ان میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز شامل ہیں۔
مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی، جب کہ مقدمہ نمبر 1193 تھانہ کراچی کمپنی میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے جن دیگر رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے، ان میں اسد قیصر، فیصل جاوید، سلمان اکرم راجا، رؤف حسن، مراد سعید، احمد نیازی، حماد اظہر، عاطف خان، شعیب شاہین، اعظم سواتی، صاحبزاہ حامد رضا، علیمہ خانم، شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، شاندانہ گلزار اور شیر افضل مروت شامل ہیں۔
فیض آباد احتجاج سے متعلق ایک اور مقدمے میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی اشتہاری حیثیت ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کو ان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا، اور کہا کہ اگر پشاور ہائی کورٹ کا کوئی حکم موجود ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما فیصل جاوید خان سمیت دیگر افراد عدالت میں پیش ہوئے، جس کے بعد عدالت نے وکلاء کی درخواست پر سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور اور دیگر ملزمان کے خلاف ایک علیحدہ ایف آئی آر تھانہ انڈسٹریل ایریا میں بھی درج ہے۔
