سوئیڈن میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بچے جو اپنی ابتدائی پانچ سال دیہی علاقوں میں گزارتے ہیں، ان میں ٹائپ 1 ذیابیطس ہونے کا خطرہ شہری بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں 2005 سے 2022 تک مریضوں کے رہائشی پتے اور ذیابیطس کی تشخیص کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ دیہی علاقوں میں ایسے چار مقامات تھے جہاں بچوں میں ذیابیطس ہونے کا خطرہ قومی اوسط سے 30 سے 80 فیصد تک زیادہ تھا۔ ایسے خطرناک علاقے شہری علاقوں میں نہیں پائے گئے۔
شہری علاقوں میں ایسے مقامات بھی ملے جہاں خطرہ قومی اوسط سے 20 سے 50 فیصد تک کم تھا۔
تحقیق کے مطابق جن بچوں نے اپنی زندگی کے پہلے پانچ سال کچھ مخصوص دیہی علاقوں میں گزارے، ان میں ٹائپ 1 ذیابیطس ہونے کا خطرہ 2.7 گنا زیادہ پایا گیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ شہری علاقوں میں وائرل انفیکشنز زیادہ ہوتے ہیں جو بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں کیمیکل یا الرجی پیدا کرنے والے عوامل زیادہ ہو سکتے ہیں، جس سے آٹو امیون بیماریاں بڑھ سکتی ہیں۔
