بیروت، 9 اگست: جنوبی لبنان کے ضلع صور کے علاقے وادی زبقین میں ہفتہ کے روز ایک ہتھیاروں کے گودام میں دھماکے کے نتیجے میں لبنانی فوج کے 6 اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ فوج کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہلکار اس گودام کا معائنہ اور اس میں موجود ہتھیاروں کو ناکارہ بنا رہے تھے۔
ایک فوجی ذریعے نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، تصدیق کی کہ یہ گودام حزب اللہ کی ایک فوجی تنصیب کا حصہ تھا۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب اہلکار حالیہ جھڑپوں میں بچ جانے والے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کو ہٹا رہے تھے۔ دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
یہ سانحہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لبنانی حکومت نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ سال کے اختتام تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل کرے، جو گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے جبکہ تہران نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔
صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام نے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی قومی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کے کمانڈر میجر جنرل دیوداتو اباگنارا نے فوجیوں کی کوششوں کو سراہا جن کا مقصد استحکام بحال کرنا اور دوبارہ جنگ کو روکنا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل اقوام متحدہ کی افواج نے اسی علاقے میں مضبوط سرنگوں کے ایک وسیع جال کا پتہ لگایا تھا، جس میں توپ خانے، راکٹ، بارودی سرنگیں اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ اسی دن اسرائیلی فضائی حملے میں سرحدی قصبے عیناتا میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
