ہنگو، 25 اگست 2025 — پیر کے روز خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے توراوری میں ایف سی قلعے پر دہشتگردوں کے حملے میں تین اہلکار شہید جبکہ 17 زخمی ہو گئے۔
ایس پی آپریشنز اسد زبیر کے مطابق، دہشتگردوں نے قلعے پر حملہ کیا جس پر پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہو گئے۔
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر دعوبہ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) نے تصدیق کی کہ حملے کے ایک سہولت کار کو بعد ازاں مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا، جب اس نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ باقی ماندہ عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔
یہ واقعہ ملک میں دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی لہر کے دوران پیش آیا، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جو افغانستان کے ساتھ غیر محفوظ سرحدیں رکھتے ہیں۔
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی رپورٹ کے مطابق، جون کے مہینے میں ملک میں 78 دہشتگرد حملے ہوئے جن میں 100 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان میں 53 سیکیورٹی اہلکار، 39 شہری، 6 دہشتگرد اور 2 امن کمیٹی کے ارکان شامل تھے۔ زخمیوں کی تعداد 189 رہی جن میں 126 سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن میں باجوڑ اور ژوب میں ہدفی آپریشنز شامل ہیں۔ رواں ماہ ژوب میں افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 47 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔
