واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر نیٹو کے رکن ممالک روس سے تیل خریدنا فوری طور پر بند کر دیں تو وہ ماسکو پر نئی پابندیاں عائد کرنے کو تیار ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نیٹو ممالک کو بھیجے گئے خط کے مندرجات شیئر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سے سستا تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، جو جنگ کے خاتمے کے بعد ہٹا دیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ چین روس کو سہارا دے رہا ہے اور اسے کمزور کرنے کے لیے سخت تجارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ روس-یوکرین جنگ ’’بائیڈن اور زیلنسکی کی جنگ‘‘ ہے اور اگر وہ صدر ہوتے تو یہ جنگ شروع ہی نہ ہوتی۔
امریکی صدر کے مطابق گزشتہ ہفتے جنگ میں سات ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، جسے انہوں نے ’’پاگل پن‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ نیٹو کی جنگی صلاحیتیں پوری طرح مؤثر نہیں اور رکن ممالک کی روس سے تیل کی خریداری مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کرتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نیٹو اتحادی ان کی تجاویز پر عمل نہ کریں تو ’’یہ امریکا کے وقت، توانائی اور وسائل کا ضیاع ہوگا‘‘۔
