اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ آزاد تفتیش کاروں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی آبادی کو تباہ کرنے کے مقصد سے نسل کشی کر رہا ہے۔ منگل کو جاری کی گئی 70 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں یہ الزامات سامنے آئے، جنہیں اسرائیل نے فوراً جانبدارانہ اور ’’حماس کے بیانیے کی خدمت‘‘ قرار دے کر مسترد کردیا۔
انسانی حقوق کونسل کے تحت قائم اقوامِ متحدہ کی آزادانہ تحقیقاتی کمیشن، جس کی قیادت ناوی پلے اور کرس سڈوٹی کر رہے ہیں، نے کہا کہ اسرائیل نے 1948 کے نسل کشی کنونشن میں بیان کردہ پانچ میں سے چار اعمال انجام دیے ہیں۔ ان میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت، جسمانی و ذہنی نقصان پہنچانا، ایسی زندگی کی صورت حال مسلط کرنا جس کا مقصد فلسطینیوں کو ختم کرنا ہو، اور بچوں کی پیدائش روکنا شامل ہیں۔
ناوی پلے نے کہا کہ نتائج ’’واضح نسل کشی کے ارادے‘‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بھوک، محاصرہ، صحت و تعلیم کے ڈھانچے کی تباہی اور اسرائیلی رہنماؤں کے کھلے بیانات کو ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ مزید یہ کہ اسرائیلی افواج پر بچوں کو نشانہ بنانے، عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات نظرانداز کرنے اور جنسی و صنفی تشدد کے الزامات بھی لگائے گئے۔
اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے اوچا کے مطابق تقریباً دس لاکھ شہری غزہ شہر میں محصور ہیں، جہاں قحط کی تصدیق ہوچکی ہے اور بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ نے خبردار کیا کہ مکمل ناکہ بندی اور بے دخلی کے احکامات نے ’’غیر انسانی بقا کی صورتحال‘‘ پیدا کر دی ہے۔
جنیوا میں اسرائیل کے سفیر ڈینی میرون نے رپورٹ کو ’’چُنے ہوئے حقائق‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ اسرائیل کو بدنام کرنے کی کوشش ہے جبکہ اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
کمیشن نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر بین الاقوامی قانون کے تحت اقدام کرے تاکہ مبینہ نسل کشی کو روکا جا سکے۔ ناوی پلے نے کہا، ’’خاموشی بھی شریکِ جرم ہونا ہے، ہر ملک پر لازم ہے کہ وہ غزہ میں ہو رہی بربادی کو روکے۔‘‘
اس دوران، کشیدگی غزہ سے آگے بھی پھیل گئی جب اسرائیل نے گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جس میں پانچ حماس ارکان اور ایک عام شہری ہلاک ہوا۔ اس حملے کی اقوامِ متحدہ نے سخت مذمت کی اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے ’’قطری خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ کی سیاسی امور کی سربراہ روز میری ڈیکارلو نے خبردار کیا کہ یہ حملہ خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور امن و یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انسانی حقوق کونسل نے بحران پر ہنگامی بحث طلب کرلی ہے جبکہ عالمی دباؤ فوری انسانی امداد اور جوابدہی کے لیے بڑھ رہا ہے۔
