واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ امریکی فورسز نے ایک اور مہلک کارروائی کرتے ہوئے بین الاقوامی پانیوں میں منشیات اسمگلنگ کے شبے میں ایک کشتی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ ٹرمپ نے ہلاک شدگان کو "نارکو ٹیررسٹس” قرار دیا۔
صدر کے مطابق یہ کارروائی امریکی سدرن کمانڈ کے دائرہ اختیار میں کی گئی، جو وسطی و جنوبی امریکا اور کیریبین کے خطے پر محیط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشتی مبینہ طور پر کوکین اور فینٹینیل امریکہ اسمگل کرنے کے روٹ پر جا رہی تھی۔ اس حملے میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اس حملے کی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں کھلے سمندر میں ایک چھوٹی کشتی کو میزائل لگتے اور پھر سیاہ دھواں اٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا: "امریکہ میں فینٹینیل، منشیات اور غیر قانونی ڈرگز بیچنا بند کرو، اور امریکیوں کے خلاف تشدد و دہشت گردی ختم کرو!”
یہ کارروائی رواں ماہ میں مشتبہ منشیات بردار کشتیوں پر امریکہ کا تیسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل رواں ہفتے ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی امریکا کے قریب ایک اور کشتی تباہ کی گئی، جس میں تین افراد ہلاک ہوئے اور منشیات سے بھرے بیگ سمندر میں بکھر گئے۔ ماہ کے آغاز میں کیریبین میں ایک علیحدہ حملے میں 11 افراد مارے گئے، جنہیں وینزویلا کے گینگ "ٹرین دے آراگوا” سے منسلک بتایا گیا تھا۔
تاہم ان حملوں کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے تاحال کوئی حتمی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ یہ کشتیاں منشیات لے جا رہی تھیں یا دہشت گرد تنظیموں سے جڑی ہوئی تھیں۔ ناقدین، جن میں سینیٹر جیک ریڈ بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی یا بین الاقوامی قوانین کے تحت خود دفاع کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔
تنقید کے باوجود اعلیٰ حکام، بشمول وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو، نے مزید کارروائیوں کے امکانات کا اشارہ دیا ہے۔ روبیو نے میکسیکو اور ایکواڈور کے دورے کے دوران کہا کہ امریکہ "منشیات کے کارٹیلز کے خلاف جنگ لڑنے” کا ارادہ رکھتا ہے جو امریکیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
