ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں ایک ’’جامع سکیورٹی نظام‘‘ اور مسلم ممالک کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور دفاعی تعاون کی شروعات قرار دیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے اسرائیل پر کڑی تنقید کی اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حالیہ اسرائیلی حملے کی مذمت کی۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ’’طاقت کے استعمال سے سکیورٹی یقینی نہیں بنائی جا سکتی، اس کے لیے اعتماد سازی، علاقائی روابط اور کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہیں۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ آئندہ کرے گا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان رواں برس ہونے والی جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران ’’سنگین جارحیت‘‘ کا نشانہ بنا جبکہ اسرائیلی حملے سفارتکاری کے ساتھ ’’کھلا دھوکہ‘‘ تھے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے سائنسدان اور بچے شہید ہوئے، جو ان کے بقول کھلی جارحیت کی مثال ہے۔
