امریکا کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایک بھارتی خفیہ ایجنٹ نے نہ صرف کرائے کے قاتلوں کے ذریعے پاکستان، نیپال اور امریکا میں ٹارگٹ کلنگ کا منصوبہ بنایا بلکہ اس مقصد کے لیے اسلحے سے بھرے ایک طیارے کی فراہمی کا وعدہ بھی کیا۔
استغاثہ کے مطابق بھارتی شہری نکھل گپتا، جو پہلے ہی منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث رہا ہے، ایک مبینہ را افسر وکاش یادو کی ہدایات پر کام کر رہا تھا۔ یادو نے گپتا کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ’’خودکار رائفلیں اور پستول‘‘ فراہم کرے گا اور بھارت سے طیارے کی کلیئرنس بھی دلوائے گا۔
پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلحے کی فراہمی براہِ راست قتل کی سازش سے منسلک تھی۔ گپتا نے امریکا میں سکھ رہنما کو قتل کرنے کے لیے ’’کرائے کے قاتل‘‘ تلاش کیے، لیکن جسے وہ قاتل سمجھ رہا تھا وہ دراصل امریکی ادارے ڈی ای اے کا خفیہ اہلکار نکلا۔
نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک ریپبلک سے گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا گیا، جہاں اس پر قتل کی سازش، منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کو امریکا میں آزادیٔ اظہار کے حق کو دبانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایف بی آئی اور ڈی ای اے اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
