مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ایک روبوٹ نے خنزیروں پر کامیاب سرجری کرتے ہوئے پتا نکالنے کا عمل مکمل کیا، جس کے بعد ماہرین امید کر رہے ہیں کہ آئندہ 10 سال میں انسانوں پر بھی روبوٹ کے ذریعے سرجری ممکن ہو سکے گی۔
یہ روبوٹ جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں تیار کیا گیا، جس نے آٹھ بار یہ پیچیدہ عمل مکمل کیا، ہر بار صرف پانچ منٹ سے کچھ زیادہ وقت لیا۔ روبوٹ نے یہ عمل انسانوں کی ویڈیوز دیکھ کر سیکھا تھا۔
ماہرین کے مطابق روبوٹ انسانی ڈاکٹروں کے مقابلے میں تھوڑا سست تھا، لیکن اس کی حرکت زیادہ ہموار اور درست تھی، اور یہ خود ہی غلطیاں درست کر لیتا تھا۔
جانز ہاپکنز کے پروفیسر ایکسل کریگر نے کہا، ’’یہ مکمل خودکار سرجری کی طرف ایک اہم قدم ہے۔‘‘
برطانیہ کے ماہرین نے بھی نتائج کو متاثر کن قرار دیا۔ NHS کے روبوٹکس چیئرمین ڈاکٹر جان میک گراتھ نے کہا کہ مستقبل میں روبوٹس سادہ آپریشن جیسے پتا یا ہرنیا کی سرجری تیزی سے کریں گے اور ڈاکٹرز ایک سے زیادہ آپریشنز کی نگرانی کر سکیں گے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ زندہ انسانوں پر عمل شروع کرنے سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے، کیونکہ روبوٹ کو سانس لیتے جسم، خون بہنے، یا کیمرے پر دھند جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
