پاکستان میں ایک اور مریض میں کانگو وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملتان کے نشتر اسپتال میں ایک مریض میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 15 سالہ متاثرہ مریض کا تعلق وہاڑی کی تحصیل میلسی سے ہے۔
زیر علاج مریض بخار میں مبتلا تھا، اسکریننگ کرنے پر کانگو وائرس سے متاثرہ ہونے کی تصدیق ہوئی، مریض کو آئیسولیش وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے، اور اس کی ٹریول ہسٹری کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کانگو وائرس کیا ہے؟
یہ وائرس مویشی گائے، بیل، بکری، بکرا، بھینس اور اونٹ، دنبوں اور بھیڑ کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس بیماری میں جسم سے خون نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
علامات:
تیز بخار سے جسم میں سفید خلیات کی تعداد انتہائی کم ہو جاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہو جاتے ہیں، جب کہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
احتیاطی تدابیر:
کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں، مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں، مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں، لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں، جانور منڈی میں بچوں کو تفریح کرانے کی غرض سے بھی نہ لے جایا جائے۔
