کراچی: سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار سال پاکستان کی معیشت کے لیے بدترین ادوار میں شمار ہوتے ہیں۔
ہفتے کو اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اس عرصے کے دوران معاشی ترقی کی شرح انتہائی کم رہی جبکہ مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی ریکارڈ سطح تک پہنچی اور سرکاری اعداد و شمار بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسد عمر نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار ہی ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی عکاسی کر رہے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے حوالے سے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 60 سے 70 فیصد تک اضافہ ہوا تو حکومت کو پیٹرولیم لیوی کم کرنی چاہیے تھی، تاہم ان کے مطابق حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس بھی بڑھا دیے۔
اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ پیٹرول پر پٹرولیم لیوی 50 روپے سے بڑھا کر 117 روپے فی لیٹر کردی گئی، جبکہ گزشتہ سال حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.6 کھرب روپے جمع کیے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے سے 600 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ چاروں صوبوں میں جاگیرداروں، وڈیروں، صنعتکاروں اور بڑے زمینداروں سے 10 ارب روپے سے بھی کم ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس وصولی میں یہ فرق عوام میں بے چینی کا باعث بن رہا ہے کیونکہ تنخواہ دار طبقہ مجموعی ٹیکس بوجھ کا غیر متناسب حصہ برداشت کررہا ہے۔
اسد عمر نے حکومت کی جانب سے نئے آزاد بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے حوالے سے پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
سولر صارفین سے متعلق پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے پانچ سالہ پالیسی میں تبدیلی کرکے نیٹ میٹرنگ ختم کی، جسے انہوں نے صارفین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ ان کا سوال تھا کہ ایک طرف سولر صارفین کے لیے پالیسی تبدیل کی گئی جبکہ دوسری جانب نئے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ طرزِ عمل مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے 2013 سے 2018 کے دوران اختیار کیے گئے طریقہ کار سے مشابہت رکھتا ہے۔
اسد عمر نے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش میں اسی نوعیت کے بجلی گھر تقریباً ایک تہائی لاگت میں تعمیر کیے جا رہے ہیں، جس سے پاکستان میں توانائی کے مجوزہ منصوبوں کی لاگت اور کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
