کراچی — پاکستان میں تیل سپلائی کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنریز کی نمائندہ تنظیم ‘آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل’ نے بدھ کے روز وفاقی حکومت کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق او سی اے سی نے وزارتِ پٹرولیم کو ایک ہنگامی خط ارسال کیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے دوران حکومت کے یکطرفہ فیصلوں نے پوری آئل انڈسٹری کو شدید ترین مالیاتی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں کا تعین آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے۔
کونسل کا کہنا ہے کہ حکومت کے نئے فارمولے اور قیمتوں کے یکطرفہ فیصلوں کے باعث آئل کمپنیوں اور ریفائنریز کو مجموعی طور پر 104 ارب روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس سے کمپنیوں کا ورکنگ کیپیٹل اور مارکیٹ کی مائع پذیری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ "عوام کو ریلیف دینے کا پورا بوجھ آئل کمپنیوں پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے اور یہ سلسلہ مزید نہیں چل سکتا۔”
او سی اے سی نے انڈسٹری پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی درج ذیل اہم وجوہات بیان کی ہیں:
-
منجمد منافع: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کے مارجن میں گزشتہ ڈھائی سال سے کوئی اضافہ یا نظرِ ثانی نہیں کی گئی، جبکہ کاروباری اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
-
اربوں روپے کے واجب الادا فنڈز: حکومت کے ذمہ انڈسٹری کے 66.7 ارب روپے کے واجبات طویل عرصے سے بقایا ہیں، جس نے مالی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
-
قومی خدمات: کونسل نے یاد دہانی کروائی کہ شدید مشکلات کے باوجود انڈسٹری نے ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھا اور قومی مفاد کے تحت پاک فوج اور حج پروازوں کو پرانی قیمتوں پر پٹرولیم مصنوعات فراہم کیں۔
او سی اے سی نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ پالیسی برقرار رہی تو کمزور پٹرولیم کمپنیاں دیوالیہ ہو جائیں گی اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے اپنا سرمایہ نکال سکتے ہیں۔ کونسل نے وزیرِ پٹرولیم سے فوری اور ہنگامی ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ قیمتوں کے تعین کے لیے ایک منصفانہ نظام وضع کیا جا سکے، بصورتِ دیگر ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
